الیکشن کمیشن میں داخلی اختلافات

   

سبق ایسا پڑھا دیا تونے
دل سے سب کچھ بھلا دیا تونے
ہندوستان بھر میں اس وقت الیکشن کمیشن کے طرز کارکردگی پر بحث چل رہی ہے ۔ اس انکشاف کے بعد کہ دو الیکشن کمشنران نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرز کارکردگی اور ان کے من مانی اور یکطرفہ فیصلوں پر کئی مرتبہ اختلاف رائے کا اظہار کیا تھا اور اس پر مکتوب بھی تحریر کئے تھے ملک بھر میں عوامی برہمی اور ناراضگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب سارے ملک میں ایس آئی آر کے عمل کو منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جارہا ہے ۔ اس ماہ کے اوائل ہی سے احتجاج شروع ہوا تھا اور وہ شدید بھی ہوگیا تھا ۔ درمیان میں دسہرہ تہوار کے موقع پر احتجاج میں کچھ وقفہ دیا گیا تھا اور اب ایک بار پھر احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ مختلف گوشوں کا دعوی ہے کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے من مانی انداز میں فیصلے کئے ہیں اورقوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ اس دوران اب ایک اور انکشاف ہوا ہے کہ دو الیکشن کمشنران سکبھیر سندھو اور ویویک جوشی نے کابینی سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کے طریقہ کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا تھا ۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی تھی ۔ یہ مکتوب کابنی سکریٹری کے نام تھے اور آر ٹی آئی درخواست کے تحت اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ دونوں الیکشن کمشنران کا الزام تھا کہ مختلف امور میں کمیشن میں تبادلہ خیال یا متعلقہ عہدیدار سے مشورہ کے بغیر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ ان ہی دونوں الیکشن کمشنران نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی 10 ماہ میں 14 مرتبہ تحریری شکایت درج کروائی تھی ۔ اس طرح سے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ کمیشن میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور اس میں شدید داخلی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ یہاں قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے دریغ انداز میں انجام دیا جا رہا ہے ۔ کمیشن کے تعلق سے جو شبہات عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوئے ہیں وہ بے بنیاد نہیں ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈپٹی الیکشن کمشنر کے خلاف جو شکایت درج کروائی گئی ہے وہ خود الیکشن کمشنران نے کروائی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ الیکشن کمشنران کے وجود کو ایک طرح سے بے معنی کرکے رکھد یا گیا ہے اور کچھ مٹھی بھرا فراد اپنے من مانی انداز میں کام کرنے لگے ہیں اور اسی پر عوام کو شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اور جو اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ تقویت بھی پار ہے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایس آئی آر میں دھاندلیوں کے جو الزامات ہیں وہ بھی غلط نہیں ہیں۔ جو احتجاج ایس آئی آر کو ختم کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے وہ اپنی جگہ درست قرار دیا جاسکتا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جہاں خود من مانی فیصلے کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں وہیں اگر وہ ڈپٹی الیکشن کمشنر کو من مانی کام کرنے سے نہیں روک پاتے ہیں تو یہ بھی ان کی ہی نا اہلی ہے اور یہ شکایت کسی اور نے نہیں بلکہ خود ساتھی الیکشن کمشنران نے درج کروائی ہے ۔ سارے الیکشن کمیشن میں آج جس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے وہ ایک طرح سے ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا اور داغدار کرنے والی ہوگئی ہے ۔ جمہوریت اور جمہوری عمل کا تحفظ کرنا کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن کمیشن ہی کے اندر اس طرح کی صورتحال نے جمہوریت کے تئیں کئی اندیشے پیدا کردئے ہیں اور اس سے ملک کے عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
الیکشن کمیشن اس مسئلہ پر بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ سابق میں جو الزامات انگریزی روزنامہ کی رپورٹ میں عائد کئے گئے تھے ان پر بھی کمیشن نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی ان کی تردید کی تھی ۔ اب بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس پر بھی کمیشن خاموش ہے ۔ کمیشن کی خاموشی بھی الزامات کو تقویت دینے لگی ہے ۔ کمیشن کو اس تعلق سے وضاحت کرنی چاہئے ۔ عوام کا یقین اور اعتماد کو متاثر ہو رہا ہے اس کو بحال کرنے کمیشن کو تمام الزامات جواب دینا اور وضاحت کرنا چاہئے ۔