نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کو ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے نوٹس بھیجا ہے۔ سپریم کورٹ نے دھونی کو یہ نوٹس امرپالی گروپ معاملے میں بھیجا ہے، اور ساتھ ہی امرپالی گروپ معاملے میں شروع کی گئی ثالثی کی کارروائی پر بھی روک لگادی ہے ۔ امرپالی گروپ معاملے میں ثالثی کا حکم دہلی ہائیکورٹ نے دھونی کی عرضی پر ہی دیا تھا۔ دھونی نے دہلی ہائیکورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ امرپالی گروپ نے ان کی فیس نہیں دی ہے، مگر سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دھونی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دراصل دھونی کے ذریعہ دہلی ہائیکورٹ میں عرضی داخل کیے جانے کے بعد امرپالی گروپ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ اسی معاملے میں عدالت عظمیٰ نے دھونی کو نوٹس بھیجا ہے اور ساتھ ہی ثالثی کی کارروائی پر بھی روک لگا دی ہے۔ 2016 ء میں انھوں نے خود کو امرپالی گروپ سے علیحدہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے عدالت عظمیٰ میں عرضی دے کر اپنی 40 کروڑ روپے کی فیس دلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔امرپالی گروپ کی کمپنی کے مطابق دھونی سے 42 کروڑ روپئے وصول طلب ہے ، جو اشتہار کی فیس کے طورپر ادا کئے گئے تھے ۔ جولائی 2019 ء میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ امرپالی گروپ نے ہوم بائیرس کمپنی کی 42.22 کروڑ روپئے کی رقم برانڈ ایمبسیڈر دھونی کو اشتہار کے سلسلے میں ادائیگی کے طورپر منتقل کی تھی۔ یہ رقم Rhiti اسپورٹس کو ادا کی گئی جو کرکٹ اسٹار دھونی کے اشتہارات کا انتظام سنبھالنے والا ادارہ ہے ۔ قبل ازیں اپریل 2019 ء میں دھونی نے فاضل عدالت سے رجوع ہوکر 5,500 مربع فیٹ کے پینٹ ہاؤس کے اپنے مالکانہ حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی استدعا کی تھی ۔ یہ پینٹ ہاؤس دھونی نے امرپالی گروپ کے ایک پروجیکٹ میں بک کرایا تھا ۔