برقی سربراہی مسدود۔ کئی پروازیں منسوخ،پیر تک شدید برفباری کی پیش قیاسی
واشنگٹن: امریکہ میں برفانی طوفان نے زبردست تباہی مچادی تاحال 28 افراد کے موت کی اطلاع ہے۔ طوفان کی وجہہ سے جہاں اموات ہوئیں وہیں لاکھوں افراد کی معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہو چکی ہے۔ شدید برفباری کی وجہہ سے کئی مقامات پر برقی سربراہی بند ہوگئی۔ اس طوفان نے سب سے زیادہ بفیلو اور نیویارک شہر کو متاثر کیا ہے۔ اسی دوران طوفان کے اثرسے قریب 2700 پروازوں کو منسوخ کردیا گیا جبکہ کئی طیاروں کا رخ موڑ دیا گیا۔ طوفان اورشدید برفباری کی وجہ سے موسم کافی سرد ہوگیا ہے۔امریکہ میں ہفتہ کی شام تک آنے والے شدید برفانی طوفان کی زدمیں آنے سے کم از کم 28افراد ہلاک ہو گئے ۔یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ یہ اموات اوکلاہوما، کینٹکی، مسوری، ٹینیسی، وسکونسن، کنساس، نیبراسکا، اوہائیو، نیویارک، کولوراڈو اور مشی گن ریاستوں میں ہوئیں ہیں۔ ان میں سے چار اموات جمعہ کی دو پہر اوہائیو کے سینڈوسکی کے قریب اوہائیو ٹرن پائیک پر گاڑیوں کے ڈھیر کے نتیجہ میں ہوئیں۔اوہائیو کے گورنر مائیک ڈیون نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کیاکہ اگر آپ کو باہر نکلنا ہے ، تو گاڑی آہستہ چلائیں، سیٹ بیلٹ باندھ لیں اور محفوظ فاصلہ رکھیں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی منزل پر محفوظ طریقے سے پہنچ جائیں۔ امریکی موسم کی پیشن گوئی کرنے والوں نے ہفتہ کے روز کہا کہ موسم سرما کا طوفان گریٹ لیکس تیز ہواؤں، کم درجہ حرارت اور بھاری برف باری سے متاثر ہورہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مرکز اب مشرقی کینیڈا کے شمال میں ہے ۔ گورنر کیتھی ہوچول کے دفتر کے مطابق’’تاریخی‘‘ برفانی طوفان نے نیویارک ریاست کے بفیلو علاقے اور اس سے باہر کا سفر ناممکن بنا دیا ہے ۔ اس دوران نارتھ کاؤنٹی، فنگر لیکس اور سینٹرل نیویارک کے علاقوں میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں۔ مغربی نیویارک میں ہوا کی رفتار 127 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ بفیلو اور واٹر ٹاؤن کے علاقوں میں پیر تک تین سے پانچ فٹ برف پڑنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جہاں ایک سڑک پر کئی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق امریکہ میں یا باہر 3300 سے زیادہ پروازیں ہفتہ کومنسوخ کر دی گئیں اور تقریباً 7500 پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ برفانی طوفان کے باعث کرسمس کی رونقیں ماند پڑگئیں۔