تہران ۔ 12 اگست (ایجنسیز) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہیکہ جب تک امریکہ اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لاتا اور ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ کو جنگ کا خاتمہ کرنا چاہئے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا چاہئے جبکہ دیگر شرائط کے بارے میں امریکہ کو ثالثوں کے ذریعہ آگاہ کردیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ کو مذاکرات کے معاملے میں ایران کے انداز پر مایوسی ہے اور انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ بات چیت کے دوران سچا نہیں ہے اور ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔وائس آف امریکہ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مذاکراتی کمروں کے اندر ہمارے ساتھ اتفاق کرتے ہیں پھر میڈیا کے ذریعہ طے شدہ امور کا انکار کر دیتے ہیں اور انہوں نے انہیں انتہائی مکار مذاکار اور انتہائی بے ایمان لوگ قرار دیا۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو شائع ہونے والے بلومبرگ نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور ایران اپنے درمیان کشیدگی کو حل کرنے کیلئے کسی نہ کسی قسم کے انتظامات تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ انہوں نے بلومبرگ کو بتایا کہ معاملات ایک بار پھر امن معاہدے یا سمجھوتے کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو یا تین دنوں کے اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ہم کسی نہ کسی قسم کے انتظام تک پہنچنے کے قریب تر ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایک پائیدار امن کا قیام مشرق وسطیٰ کے خطہ کے مفاد میں ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوتیں موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ مناسب وقت پر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ فروری کے مہینے میں دونوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں فریقوں نے جون کے مہینے میں فائرنگ بندی کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا تاہم وہ برقرار نہ رہ سکا کیونکہ جولائی کے مہینے میں اس کی خلاف ورزی کر دی گئی تھی۔