امریکی صدارتی انتخابات دلچسپ تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار

   

امریکہ کے سیاسی پنڈت اور قابل اعتماد سروے میں بھی واضح پیش قیاسی نہیں کی جارہی

نیو یارک: امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم مدت رہ گئی ہے لیکن ڈیمو کریٹ کملا ہیریس اور ری پبلکن ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مقابلہ اتنا سخت اور غیر یقینی نظر آتا ہے۔ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیریس نے ٹرمپ کے مخالف ری پبلکن لیڈروں کی حمایت حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنالی۔امریکہ کے سیا سی پنڈت اور قابل اعتماد سروے سے بھی اس بارے میں کوئی واضح پیشگوئی کرنے سے قا صر ہیں کہ امریکی صدارت کا الیکشن ڈونلڈ ٹر مپ جیتیں گے یا کملا ہیرس اکثریت حاصل کریں گی۔دونوں امیدواروں کی انتخابی مہم شہر شہر کے دورے جلسے ‘ ریلیاں ‘ مخالفانہ سیا ست کے باوجود کوئی واضح منظر نہیں ابھر سکا بلکہ 21 اکتوبر کے تازہ سروے کے مطابق بھی کملا ہیرس اور ٹر مپ کی مقبولیت میں صرف ایک فیصد کا فرق ہے۔اگر ایک امریکی ریاست میں ٹرمپ کی مقبو لیت 49 فیصد ہے تو کملا ہیریس بھی48 فیصد مقبولیت کی حامل ہیں تو دوسری ریاست میں کملا ہیرس 49 فیصد اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 49 فیصد مقبولیت حاصل ہے۔اس طرح وہ سات امریکی ریاستیں جنہیں انتخابات کی میدان جنگ ریاستوں کا نام دیا جارہاہے وہاں بھی ابھی تک غیر یقینی صورتحال ہے۔ ریاست ایری زونا میں بھی ٹرمپ کو 50 فیصد اور کملاہیریس کو 48فیصد مقبولیت بیان کی جارہی ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر کملا ہیرس اور ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی میں تبد یلی کی ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی کو عوامی رنگ دینے کے لیے میکڈ انڈ ریسٹو رنٹ میں جا کر ایپرن ینکر کسٹمرز کو سروس فراہم کرنے کا روپ دحارنے کے علاوہ میدان جنگ کی ریاستوں میں اپنی مہم کو مزید تیز کردیا ہے۔یہ سات امریکی ریاستیں ہی انتخابی جیت کا فیصلہ کریں گی۔ ان میں ریاست مشی گن پنسلواینا‘ وسکانسن ‘ جارجیا ‘ نارتھ کیرو سپنا‘نیواڈا‘ اور یری زونا شامل ہیں۔تازہ سروے کے مطابق ان سات ریاستوں میں بھی دونوں کی عوامی مقبولیت میں فرق بھی بہت معمولی ہے اس صورتحال کے پیش نظر ڈیمو کریٹ امیدوار کملا ہیریس نے ایک مختلف اور منفرد حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت انہوں نے ری پبلکن امیدوار ڈونا لڈ ٹر مپ سے ناراض ری پبلکن سیا ستدانوں اور رہنماؤں اور ماہرین سے رابطے قائم کرکے حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کردی۔

یو ایس الیکشن: کملا ،ٹرمپ کی صدارتی مہم میں 7 ریاستیں اہم

نیویارک: امریکی انتخابات کی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہورہی ہیں جس میں ڈیموکریٹک امیدوار اور موجودہ نائب صدر کملاہیریس اور ان کے ری پبلیکن مد مقابل سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کانٹے کے مقابلے والی ان سات ریاستوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو الیکشن کے نتائج کو متوقع طور پر متعین کریں گی۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیاب کے مطابق ایک کروڑ 40 لاکھ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ توقع ہے کہ ووٹرز کی بڑی تعداد الیکشن سے پہلے آنے والے دنوں میں پہلے ووٹ ڈالنے کی سہولت سے مستفید ہوکر ووٹ ڈالے گی جبکہ امریکہ کی تمام ریاستیں پہلے ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ اسٹیشنز کھولیں گی۔منگل 5 نومبر 2024ء کو صدارتی انتخاب مقرر ہے۔ قومی سطح پر کیے گئے عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ کئی دہائیوں کا قریب ترین مقابلہ ہوگا۔ ان جائزوں کے مطابق ہیریس کو معمولی سی سبقت حاصل ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات پاپو لر ووٹ کے ذریعہ نہیں بلکہ الیکٹورل کالج کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔ الیکٹورل کالچ کی وجہ سے انتخاب پچاس ریاستوں میں سے ہر ایک میں مقابلے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ 50 میں سے 48 امریکی ریاستیں جیتنے والے امیدوار کو اپنے تمام الیکٹرول ووٹ دیتی ہیں جبکہ نیبراسکا اور مین کی ریاستیں اپنے الیکٹورل ووٹ ریاستی اور کانگریس کے ڈسٹرکٹ ووٹ کے شمار کے مطابق امیدواروں کو دیتی ہیں۔ہر ریاست میں الیکٹورل ووٹ اس کی آبادی کی بنیاد پر متعین ہوتے ہیں۔ (متعلقہ خبر 4پر)
لہٰذا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاستیں قومی انتخابات کے نتائج پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔جیتنے والے امیدوار کو 538 میں سے 270 ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ جیتنے والے امیدوار کی وائٹ ہاوس میں چار سالہ مدت صدارت جنوری سے شروع ہوتی ہے۔عوامی جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت ہیرس یا ٹرمپ کو 43 ریاستوں میں اچھی خاصی یا کچھ برتری حاصل ہے۔ اگر ان ریاستوں میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوتا تو باقی کی سات ریاستیں الیکشن کے نتائج کا تعین کریں گی۔ان سات ریاستوں میں شمال کی تین ریاستیں وسکانسن، مشی گن اور پینسلوینیا، دو جنوب مشرقی ریاستیں شمالی کیرولائنا اور جارجیا اور دو جنوب مغربی ریاستیں ایریزونا اور نیواڈا شامل ہیں۔ان تمام ریاستوں کے الیکشن نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عوامی جائزوں کے نتائج شماریاتی غلطی کے امکان کے اندر ہوتے ہیں۔اس صورت حال کے پیش نظر ہیرس اور ٹرمپ اور ان کے نائب صدارت کے بالترتیب امیدوار منی سوٹا کے گورنر ٹم والز اور اوہائیو کے سینیٹر جے ڈی وینس ان سات ریاستوں میں اپنی اپنی مہم چلارہے ہیں۔ہیرس نے اتوار کو اپنی سالگرہ کے موقع پر ریاست جارجیا کے نیو برتھ مشنری بیپٹسٹ چرچ میں لوگوں سے خطاب کیا۔ یہ مقام ریاست کے دارالحکومت اٹلانٹا سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ہیرس نے اٹلانٹا کے جنوب میں بھی ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کیا جہاں انہوں نے عبادت گزاروں سے کہا کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کا حق ضرور استعمال کریں۔ادھر ٹرمپ نے ریاست پینسلوینیا میں ایپرن پہن کر میکڈونالڈ فاسٹ فوڈ چین کے ایک ریستوران میں فرینچ فرائز بنانے والے سیکشن میں کام کیا۔ انہوں نے ڈرائیو تھرو لین میں گاڑیوں کے اندر سے آرڈر دینے والے گاہکوں کو ان کا خریدا ہوا کھانادیا۔