انجینئرنگ کالجس کی فیس میں 10 تا 60 ہزار روپئے کا اضافہ

   

آئندہ ماہ فارمیسی ، ایم بی اے ، ایم سی اے ، آرکٹیکچر کالجس کی فیس پر نظر ثانی ہوگی
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی نے اس مرتبہ ریاست میں بی ٹیک کی سب سے زیادہ فیس سی بی آئی ٹی کے لیے 1.73 لاکھ روپئے مقرر کی ہے ۔ اسی گروپ کی ایم جی آئی ٹی کی فیس 1.60 لاکھ روپئے مقرر کی ہے ۔ ٹی اے ایف آر سی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ فیس میں زیادہ سے زیادہ 18 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی چند کالجس کی فیس میں 40 فیصد تک بھی اضافہ ہونے کا علم ہوا ہے ۔ اس لحاظ سے فیس میں کم از کم 10 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپئے تک اضافہ کیا جائے گا۔ ٹی اے ایس آر کے عہدیداروں نے آئندہ تین تعلیمی سال ( 2022-25 ) تک انجینئرنگ کالجس میں بی ٹیک کی فیس مقرر کرنے کے لیے 7 جولائی سے کالجس کے انتظامیہ کو طلب کرتے ہوئے مذاکرات کررہے ہیں ۔ 20 جولائی تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ آج یعنی چہارشنبہ کو مزید 10 کالجس کی فیس مقرر کی جارہی ہے۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سب سے زیادہ فیس سی بی آئی ٹی کی مقرر ہوئی ہے ۔ فی الحال اس کالج کی فیس 1.34 لاکھ روپئے ہے ۔ تعلیمی سال 2022-23 ، 2023-24 ، 2024-25 کے لیے سالانہ فیس 1.73 لاکھ روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ یعنی فیس میں 39 ہزار روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ساتھ ہی ایم جی آئی ٹی کی فیس 1.60 لاکھ روپئے مقرر ہوئی ہے ۔ ٹی ایس ایف آر سی کی جانب سے مقرر کردہ فیس کے لیے حکومت کی جانب سے جی او جاری کیا جاتا ہے ۔ اسٹینلی ویمنس کالج کی فیس 78 ہزار سے بڑھ کر 90 ہزار روپئے اور ملا ریڈی کالج کی فیس 65 ہزار سے بڑھ کر 90 ہزار روپئے ہوگئی ہے ۔ یعنی فیس میں 38 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ایک مشہور گروپ کے ویمنس کالج کی فیس میں 30 ہزار روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ٹی اے ایس آر سی نے فارمیسی کالجس کی فیس میں اضافہ کرنے کے لیے یکم تا 3 اگست تک کالجس کے انتظامیہ کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 3 اگست کو آرکٹیکچر کالجس اس کے علاوہ 10 تا 12 اگست تک ایم بی اے اور ایم سی اے کالجس انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوں گے ۔۔ ن