تالابوں کے ایف ٹی ایل اور بفر زون میں تعمیر کردہ 50 سے زائد جائیدادیں شامل ، سوشیل میڈیا پر موضوع بحث
حیدرآباد۔21۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست بھر میں حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے نئے شعبہ ’حیدرا‘ کی کاروائیاں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں اور سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے حزب مخالف کی جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے انہدام کے متعلق استفسار کرنے لگے ہیں جو کہ ’حیدرا‘ کی کاروائیوں میں انتہائی معاون ثابت ہونے کا امکان ہے۔ اس شعبہ کے سربراہ کمشنر ’حیدرا‘ مسٹر اے وی رنگاناتھ آئی پی ایس نے آج انگریزی کے ایک مؤقر روزنامہ کے ذریعہ کئے گئے سوالات کے جواب میں کئی ایسے انکشافات کئے جو کہ شہریان حیدرآباد کے لئے بے انتہاء کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں اور انہوں نے اس بات چیت کے دوران یہ بھی بتایا کہ اندرون ایک ماہ ’حیدرا‘ کی جانب سے کی گئی کاروائیوں میں 140 جائیدادوں کو منہدم کیاگیا جو کہ تالابوں کے FTL اور بفر زون میں تعمیر کی گئی تھیں جن میں 50 سے زائد جائیدادیں ہمہ منزلہ عمارتیں شامل ہیں ۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ کی جانب سے کئے گئے انکشاف کے مطابق ’حیدرا‘ جلد ہی 150 ایکڑ سے زائد تالابوں کی اراضی کو واپس حاصل کرنے کے قریب ہے۔ انہوں نے منہدم کی گئی عمارتوں کے سلسلہ میں بتایا کہ ان جائیدادوں کے انہدام کو روکنے کے لئے سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوششوںکو ناکام بنایا گیا اور مکینوں کی مداخلت کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے تالابوں میں کی گئی تعمیرات کے علاوہ سرکاری اراضیات کو واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 140 تعمیرات بشمول 50ہمہ منزلہ عمارتوں کے انہدام کے ذریعہ ’حیدرا‘ نے دونوں شہروں میں مجموعی اعتبار سے 150 ایکڑ اراضی جو بفر زون یعنی تالابوں کا حصہ ہے اسے واپس حاصل کیا ہے۔ انہوںنے حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے اس شعبہ کے متعلق کہا کہ رئیل اسٹیٹ تاجرین ‘ بلڈرس ‘ سیاسی قائدین اور انتظامیہ کے مابین جاری گٹھ جوڑ کو ختم کرتے ہوئے تالابوں ‘ کنٹوں اور سرکاری اراضیات کے تحفظ کے لئے قائم کئے گئے اس ادارہ کی کارکردگی سے عام شہری مطمئن ہیں جبکہ جن لوگوں کی جائیدادیں متاثر ہورہی ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہو ںنے غلط کیا ہے اور جن سرکاری عہدیداروں اور عملہ نے ان کی مدد کی ہے وہ بھی جلد سامنے آئے گا۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ نے بتایا کہ ’حیدرا‘ کے ذریعہ مخصوص پولیس اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں 2اے سی پی اور 6 انسپکٹر کے علاوہ 30 عہدیداروں پر مشتمل عملہ موجود رہے گا اور اس پولیس اسٹیشن میں تالابوں پر قبضہ کے علاوہ سرکاری اراضیات پر قبضہ سے متعلق شکایات وصول کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہری [email protected] پر اپنی شکایات فی الحال روانہ کرسکتے ہیں اور جلد ہی ’حیدرا‘ کی جانب سے شکایات کی وصولی کے لئے ’واٹس ایپ‘ نمبر جاری کیا جائے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ جن تالابوں کے قریب یا بفر زون میں کاروائی کی گئی ان مقامات پر کیمروں کی تنصیب اور ا س جائیداد کی ورچوول فینسنگ کے ذریعہ انہیں محفوظ بنایا جارہا ہے تاکہ اس مقام پر دوبارہ کسی بھی طرح کی تعمیر نہ ہوسکے۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ’حیدرا‘ کو مزید اختیارات دیئے جانے کے لئے حکومت نے کابینہ کے اجلاس میں ’آرڈیننس ‘ کی منظوری کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کاروائیوں میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ قابضین کے خلاف کاروائی کرسکے ۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ نے بتایا کہ ’حیدرا‘ کے 3زون تشکیل دیئے جائیں گے جن میں نارتھ سائبرآباد‘ ساؤتھ رچہ کنڈہ اور حیدرآباد سنٹرل ہوںگے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر زون کے لئے علحدہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے رینک کے حامل عہدیدار کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ نے بتایا کہ شہر میں تالابوں اور کنٹوں کے علاوہ دیگر سرکاری اراضیات کے تحفظ سے متعلق کاروائیوں کے ساتھ ساتھ شہر میں غیر مجاز ہورڈنگس کے خلاف بھی کاروائی کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ انہوں نے تالابوں پر کئے جانے والے قبضہ جات کے متعلق بتایا کہ تالابوں کے ایف ٹی ایل اور بفر زون کو مسطح کرنے کے لئے تعمیری ملبہ اور کچہرے کااستعمال کیا جاتا ہے اور مسلسل ان کوششوں کے ذریعہ مسطح کئے گئے تالابوں کی فروخت عمل میں لائی جاتی ہے ۔ مسٹر اے وی رنگاناتھ نے کہا کہ اس طرح مسطح کی گئی اراضیات عام طور پر کم داموں میں فروخت کی جاتی ہیں اور معصوم خریدار کم دام میں حاصل ہونے والی اراضی کی تحقیق کے بغیر خریدی کرلیتے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ ’حیدرا‘ ان انہدامی کارائیوں کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات بھی کر رہا ہے تاکہ وہ اس طرح کی جائیدادوں کی خریداری سے قبل چوکنا ہوتے ہوئے اپنے طور پر تحقیق کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے تالابوں اور بفر زون میں موجود اراضیات کو فروخت کیا ہے ان کے خلاف بھی ’حیدرا‘ کی جانب سے کاروائیوں کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور جلد ہی ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔3