انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دفتر کے روبرو کانگریس کی احتجاجی ریالی

   

ہزاروں کارکنوں کی شرکت ، سونیا گاندھی کی طلبی مرکز کی انتقامی کارروائی : ریونت ریڈی
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں طلب کرنے کے خلاف کانگریس پارٹی نے آج حیدرآباد میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق ملک کے اہم شہروں کے ساتھ حیدرآباد میں بھی احتجاجی ریالی منظم کی گئی۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کی قیادت میں نکلس روڈ پر واقع مجسمہ اندرا گاندھی سے بشیر باغ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ آفس تک ریالی کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ پولیس کی جانب سے ریالی کی اجازت دی گئی جس کے بعد حیدرآباد اور اطراف کے اضلاع سے قائدین اور کارکنوں کی کثیر تعداد میں ریالی میں حصہ لیا۔ احتجاجی سیاہ لباس زیب تن کئے ہوئے تھے یا پھر سیاہ پٹیاں لگائے ہوئے تھے۔ کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور گاندھی خاندان کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔ احتجاجی پروگرام میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، رکن کونسل جیون ریڈی ، تشہیری مہم کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ ، اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو ، ڈاکٹر جی چنا ریڈی ، سابق سی ایل پی لیڈر محمد علی شبیر ، ورکنگ پریسیڈنٹ انجام کمار یادو ، ڈاکٹرجے گیتا ریڈی ، مہیشور ریڈی ، وی ہنمنت راؤ ، پونالہ لکشمیا ، پونم پربھاکر ، ایس راجیا ، ڈاکٹر ملو روی ، جی نرنجن ، ایم کودنڈا ریڈی ، ایم ششی دھر ریڈی ، انیل کمار یادو ، صدر یوتھ کانگریس شیوا سینا ریڈی ، این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ ، صدرنشین میناریٹیز ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل، صدر مہیلا کانگریس سنیتا راؤ اور دیگر قائدین نے شرکت کی ۔ ریالی کے سبب اطراف کے علاقوں میں بھاری ٹریفک جام دیکھا گیا ۔ ریالی کے راستہ بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔ احتجاجیوں نے سیاہ غبارے ہوا میں چھوڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ریونت ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل پر جدوجہد کے نتیجہ میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف انتقامی کارروائی کے لئے ای ڈی کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی کے خلاف حملہ دراصل بھارت ماتا اور تلنگانہ تلی پر حملہ کے مترادف ہے۔ ر