انڈسٹریل زونس کے نام پر کسانوں سے زرعی اراضیات ہڑپنے کا الزام

   


محمد علی شبیر نے احتجاج میں حصہ لیا، شہری علاقوں میں صنعتی یونٹس کے قیام کی مخالفت
حیدرآباد۔/27 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت ماسٹر پلان کے نام پر کسانوں کی زرعی اراضیات پر قبضہ کررہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کاماریڈی ضلع کے اڈلور گاؤں میں کسانوں کے احتجاج میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے مختلف پراجکٹس کے نام پر کسانوں کی ہزاروں ایکر قیمتی اراضیات کو ہڑپ لیا ہے۔ ان اراضیات پر مختلف فصلوں کی کاشت کی جارہی تھی۔ حکومت نے مختلف میونسپلٹیز میں ماسٹر پلان کے نام پر زرعی اراضیات کے حصول کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور توسیع کے نام پر زرعی اراضیات حاصل کرتے ہوئے حکومت گرین زونس کو تباہ کررہی ہے۔ ترقیاتی ماسٹر پلان سائینٹفک انداز میں تیار نہیں کیا گیا اور اس کا مقصد رئیل اسٹیٹ تاجروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی میونسپلٹی کے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے نئے ماسٹر پلان کا اعلامیہ جاری کیا۔ قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے ماسٹر پلان پر عمل آوری کے نتیجہ میں کسانوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے حدود میں واقع انڈسٹریل زونس کو شہر کے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ کاماریڈی میں انڈسٹریل زون رہائشی علاقوں میں قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کسانوں کے احتجاج کی مکمل تائید کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔ وہ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو کسانو کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیں گے۔ر