بہو کا الزام جھوٹا ، معمر جوڑے کو مقدمہ سے بری کردیا ، انسانیت نواز جج کی ہر طرف ستائش
حیدرآباد۔ 2 مئی (سیاست نیوز) ایک ایسے وقت جبکہ عدالتی کشاکش اور مقدمات کی طوالت کے سبب لوگ عدالتوں کے چکر کاٹ کر تھک جاتے ہیں اور ذہنی ، جسمانی تکالیف کے علاوہ مالی اخراجات سے پریشان ہوجاتے ہیں ، ایسے وقت میں ایک انسانیت نواز اور رحم دل جج نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ملزمین کو سڑک پر پہنچ کر فیصلہ سنایا۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ کے بودھن ، ضلع نظام آباد میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیاجس میں بودھن سے تعلق رکھنے والے ضعیف جوڑے گنگا رام اور سائی اماں کی بہو نے اُن کے خلاف 2021ء میں شادی کے بعد ظلم و ستم اور ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرایا تھا۔جبکہ یہ معمر جوڑا ایک ماہ قبل حادثہ میں زخمی ہوچکا تھا اور پھر چلنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ یہ کیس تقریباً 30 سماعتوں کے بعد اپنے آخری مرحلے میں پہنچا تھا ۔ اس دن یہ جوڑا آٹو رکشا میں عدالت کے احاطہ میں پہنچ کر فیصلہ کا انتظار کررہا تھا۔ جب اس کی اطلاع بودھن کورٹ کے جونیر سیول جج سائی شیوا کو ملی اور انہیں بتایا گیا کہ ملزم جوڑا چل کر عدالت کے اندر آنے کے قابل نہیں ہے تو جج سائی شیوا فیصلے سنانے کیلئے خود کمرۂ عدالت سے باہر آئے اور آٹو میں بیٹھے ضعیف اور معذور جوڑے کے قریب پہنچ کر کیس کا فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر انہوں نے فیصلہ میں کہا کہ بہو کی جانب سے بزرگ جوڑے کے خلاف دائر کردہ درخواست جھوٹی اور بے بنیاد ہے اور جج نے پھر گنگا رام اور سائی اماں کو بے گناہ قرار دیا جو اس مقدمہ کے اہم ملزمین ہیں۔ جونیر سیول جج کے اس اقدام کی ہر طرف سے تعریف و ستائش ہورہی ہے اور لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت میں اسی طرح کے رحم دل اور انسانیت نواز ججس کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کیلئے رجوع ہونے والے عوام کو جلد انصاف مل سکے۔2