تحفظ شریعت کمیٹی کی مہم، محترمہ بشریٰ ندیم اور محترمہ طلعت کا خطاب
حیدرآباد 11 ڈسمبر (پریس نوٹ) والدین کے لئے یہ بات بنیادی طور پر لازمی ہے کہ وہ ہر حال میں بچوں کو شفقت، محبت، اُلفت اور پیار سے تربیت دینے کی کوشش کریں لیکن شفقت و محبت سے اگر تربیت نہیں ہوپارہی ہے تو پھر اسلامی فرائض کی پابندی اور ادب و آداب کے معاملہ میں سختی برتیں اور کبھی کبھار ضرورت پڑنے پر سزا بھی دیں۔ اکثر گھرانوں میں اولاد و والدین کے لاڈ پیار اور نرمی کا غلط فائدہ اُٹھاکر بار بار نافرمانی کرتے ہیں اور خیر و حق کے معاملہ میں لاپرواہی برتتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ بشریٰ ندیم صدر جمعیت النساء اسلامی حیدرآباد نے شریعت کمیٹی کی جانب سے جاری مہم ’’نسل مسلم کی اصلاح و تربیت‘‘ کے عنوان پر مولا علی، سکندرآباد کی خواتین و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کی طبیعت، مزاج، کیفیت اور انداز و سلوک سے واقف رہیں۔ پیار و محبت اور سختی و سزا میں توازن رکھیں۔ کبھی کبھی بے جا سختی اور ناراضگی سے بچے، لڑکے لڑکیاں اسکولس سے نکلنے اور کالج میں ایڈمیشن لینے تک عملی طور پر باغی ہوجاتے ہیں اور انھیں سمجھانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آج کل یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہماری ماڈرن مائیں اپنے بچوں کو دادا دادی، نانا نانی اور بزرگوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، خود بھی شرعی بہانے ڈھونڈ کر خدمت نہیں کرتیں اور اولاد جو اصل میں ان کی اپنی نسل ہے انھیں بھی خدمت کرنے اور ضعیفی میں ان کا خیال رکھنے کی کوئی تربیت نہیں کرتیں۔ جبکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ضعیفوں اور بزرگوں کی خدمت کی طرف خاص توجہ دیتا ہے۔ قرآن کریم اور سیرت نبی ﷺ میں اس کی بڑی فضیلت ملتی ہے۔ بعض خواتین کا عجیب قسم کا مزاج اور رویہ ہوتا ہے۔ خدمت اور حسن سلوک کے معاملہ میں جب غیروں کے لئے بچھے جاتے ہیں تو پھر دادا دادی نانا نانی کی خوشی خوشی خدمت کرنے کی کیوں عادت نہیں ڈالی جاتی۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اکثر خواتین اپنے مائیکے والوں کو اعلیٰ سمجھتی ہیں اور سسرالی رشتہ داروں کو حقیر سمجھتی ہیں۔ بات بات پر سسرالی رشتہ داروں پر نکتہ چینی کرتے رہنے کا مشغلہ بنالیتی ہیں اور اپنی ہی اولاد کے دلوں میں سسرالی رشتہ داروں کے خلاف حقارت و نفرت بٹھانا شریعت اسلامی کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اکثر جاہل اور پڑھی لکھی جاہل خواتین اپنے بچوں میں ددھیال کے خلاف بے جا نفرت، حقارت اور دشمنی کے بیج بونے کی کوشش کرتی ہیں اور رشتوں کو توڑ کر، کاٹ کر رکھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ محترمہ تبسم طلعت نے خواتین کو طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اپنی اولاد میں بچپن سے ہی اچھی عادتیں ڈالنے کی فکر کریں۔ ان کے دلوں میں اپنے سے زیادہ اللہ کی محبت، اللہ کی ناراضگی، اللہ کا ڈر پیدا کریں۔ بچے کسی بھی قسم کی نیکی و خیر کا کام کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے دلوں میں اللہ سے بہترین اجر پانے کی اُمید جگائیں۔ جھوٹ، چغلی، غیبت، لڑائی جھگڑے اور چوری سے بچنے پر اللہ کی خوشنودی کا احساس ان کے دلوں میں پیدا کریں۔ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بننے کی تلقین کریں۔ اپنی اولاد لڑکے لڑکیوں میں ساتر لباس پہننے کی عادت ڈالیں۔ اگر لڑکے لڑکیاں مغربی تہذیب یا لائف اسٹائل کے نام پر ساتر لباس کے بدلے لڑکے، لڑکیوں کا اور لڑکیاں، لڑکوں کا لباس پہننے کی خواہش یا ضد کریں یا والدین خود اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اس طرح کے لباس اولاد کو پہنانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ سخت میعوب اور شریعت اسلامی کی تعلیمات کے منافی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ شوق کے ساتھ جائز و ساتر لباس پہن کر فخر محسوس کریں۔