واشنگٹن: یکم اکتوبر کی شب ایران کی جانب سے میزائل حملے کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت پر مبنی اپنا موقف دہرایا ہے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پیر کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب یوآو گیلنٹ سے ٹیلی فون رابطے میں باور کرایا ہے کہ واشنگٹن ایران اور خطے میں اس کے ایجنٹوں کو روکنے کا پابند رہے گا۔آسٹن نے زور دیا کہ ان کے ملک کے پاس خطے میں بڑی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے فوجیوں اور اہل کاروں کا دفاع کر سکے اور بنا جارحیت بڑھائے مزید سپورٹ فراہم کر سکے۔ آسٹن نے یہ بات دہرائی کہ امریکہ “خود کے دفاع کے حوالے سے اسرائیل کے حق” کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بات امریکی وزیر دفاع کی جانب سے “ایکس” پلیٹ فارم پر جاری بیان میں بتائی گئی۔اس سے قبل اسرائیلی ذمے داران نے ان ایرانی اہداف کی متوقع فہرست کی جانب اشارہ کیا تھا جو اسرائیل کے “بڑے” رد عمل کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ ذمے داران نے واضح کیا کہ “اسرائیل ممکنہ طور پر ایران میں تزویراتی مقامات پر حملہ کر سکتا ہے جن میں ایرانی تیل کی تنصیب یہاں تک کہ جوہری تنصیب بھی شامل ہو سکتی ہے”۔ذمے داران کے مطابق اسرائیلی جوابی کارروائی جنگی طیاروں کے حملوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خفیہ آپریشنوں کے کیے جانے کا بھی امکان ہے جو ، جولائی میں تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے آپریشن سے ملتے جلتے ہوں۔