ایران اپنا رویہ درست کرے ۔ صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کیلئے بھی تیار ہوسکتا ہوں۔ امریکی صدر کا بیان
واشنگٹن، 21 ستمبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایران کے خلاف بڑا حملہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ”اگر اور کب پوری قوم کو تباہ کر دوں؟”تہران کو ایک نئی آخری تنبیہ جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ سے متعلق فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور خبردار کیا کہ مستقبل قریب میں بڑی چیزیں ہونے والی ہیں۔ان کا یہ بیان ایران کے اس اعلان کے بعد آیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی تہران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور بہت بڑی چیزیں مستقبل قریب میں ہونے والی ہیں۔ صدر نے اپنے سامنے موجود آپشنز کو ‘ایران کا صفایا کر دینا، اسے اقتصادی طور پر تباہ ہونے دینا یا سفارتی معاہدہ کرناقرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اور کب میں پوری قوم کو تباہ کر دوں؟ انہیں بہتر ہے کہ وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔”ٹرمپ نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایرانی حکومت کو مکمل تباہ کر دوں یا ایسا نہ کروں ، اور کہا تھا کہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ۔تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک آنے کی توقع ہے ۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام بھی ان کے ہمراہ ہوں گے ۔ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کے ایک ”بنیادی وفد” کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پزشکیان سے ملاقات کیلئے تیار ہو سکتے ہیں۔ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکی ان کی متعدد دھمکیوں میں تازہ ترین ہے ۔ اپریل میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جب تک کہ شاید کوئی انقلابی طور پر شاندار چیز نہ ہو جائے ۔ اس تنبیہ کے ساتھ ایک ڈیڈ لائن بھی دی گئی تھی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور مختصر مدت کیلئے جنگ بندی ہوئی۔اس تنازعہ نے توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے ، جبکہ عالمی تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم راستہ آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو امریکہ میں پٹرول کی قومی اوسط قیمت 4.48 ڈالر فی گیلن تھی۔دریں اثنا، ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اس کی انٹلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نئے بڑے حملے کی تیاری کر سکتے ہیں اور اس نے پورے مشرق وسطیٰ میں دردناک جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے ۔نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے کہا کہ اگر امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کوئی غلطی کرتا ہے تو خطہ میں اس کے تمام ٹھکانوں اور مفادات کو مسلسل، اور دردناک حملوں کا نشانہ بنایا جائیگا۔