پیرس 18/جون:(ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ایک گرلز اسکول پر ہونے والے حملے میں کسی نے بھی جان بوجھ کر اسکول کو نشانہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور اس بارے میں قبل از وقت کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بعض اوقات غلطیاں ہو جاتی ہیں، تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔یہ واقعہ رواں سال 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر میناب میں پیش آیا تھا، جہاں ایک پرائمری اسکول حملے کی زد میں آ گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس واقعہ میں 175 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں طلبہ، اساتذہ اور اسکول کا دیگر عملہ شامل تھا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 168 طلبہ اور 14 عملہ ارکان شامل تھے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرکے کہا کہ اسکول پر حملہ حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ کارروائی تھی۔