ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے نئی قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جس میں حجاب کے لازمی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین پر سخت سزائیں مسلط کی جائیں گی۔1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر اپنا سر ڈھانپنا ضروری ہے۔تاہم اب گھر سے باہر خواتین کی بڑی تعداد حجاب کے بغیر نظر آ رہی ہے بالخصوص ستمبر 2022 میں مہسا امینی کی زیرِ حراست ہلاکت اور پھر مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے۔ انہیں لباس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ نے نئے “حجاب و عفت” قانون کی منظوری دے دی ہے لیکن اس کے نفاذ کے لیے 13 دسمبر کو صدر کے دستخط کی ضرورت ہے۔