واشنگٹن: ٹوئٹر کے سینکڑوں ملازمین نے اپنے نئے باس ایلون مسک کے الٹی میٹم کے بعد بحران کا شکار سوشل میڈیا کمپنی چھوڑ دی ہے۔ سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق استعفوں کے بعد ٹوئٹر کے کئی دفاتر پیر تک بند کر دئے گئے۔ جبکہ رائٹرز کے مطابق ورک پلیس ایپ بلائنڈ پر کیے گئے ایک سروے میں 180 میں سے 42 فیصد افراد نے کمپنی کو خیرباد کہنے کا راستہ اختیار کیا۔ سروے کے 25 فیصد شرکاء نے ہچکچاتے ہوئے ہاں پر کلک کیا۔ جبکہ صرف 7 فیصد افراد نے ہاں پر کلک کیا اور کہا کہ میں سخت گیر ہوں۔ خیال رہے کہ ورک پلیس ایپ بلائنڈ دنیا بھر کے ملازمین کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ ان کے کام کے ای میل پتوں کے ذریعے تصدیق کرتی ہے اور انہیں گمنام طور پر معلومات کا اشتراک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ایک موجودہ ملازم اور حال ہی میں کمپنی چھوڑنے والے ملازم نے بتایا کہ مسک کچھ اعلیٰ ملازمین سے ملاقات کر رہے تھے اور انہیں ملازمت برقرار رکھنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔