پی جی نشستوں میں 7 واں اور سوپر اسپیشالیٹی نشستوں میں 10 واں مقام ، مرکز کی رپورٹ سے انکشاف
حیدرآباد 26 دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ طبی تعلیمی ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ہے ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے 8 سال کے دوران ٹیچنگ ہاسپٹلس کے قیام پر اولین ترجیح دی ہے ۔ جس سے سرکاری و خانگی شعبوں میں طبی نشستوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ ایم بی بی ایس کی سب سے زیادہ نشستوں والی ریاستوں کی فہرست میں 6040 نشستوں کے ساتھ تلنگانہ چھٹے مقام پر ہے کیونکہ حکومت نے ہر ضلع میں ایک میڈیکل قائم کرنے اور موجودہ ایم بی بی ایس نشستوں میں اضافہ پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ۔ اس فہرست میں 10,825 کے ساتھ ٹاملناڈو سرفہرست ہے ۔ جبکہ کرناٹک میں 10,745 ، مہاراشٹرا میں 9995 ، اترپردیش میں 9053 اور گجرات میں 6200 ایم بی بی ایس نشستوں کے ساتھ پہلے تا پانچویں مقام پر ہیں ۔ آندھرا پردیش 5485 نشستوں کے ساتھ ساتویں مقام پر ہے ۔ جن ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں میڈیکل نشستوں کی کم تعداد ہے ان میں تریپورہ 225 ، گوا 180 ، چندی گڑھ 150 ، سکم 150 ، دادرا نگر حویلی 150 ، انڈمان نکوبار جزائر 100 ، میزورم میں 100 نشستیں جبکہ میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں 50 ، 50 نشستیں ہیں ۔ مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے حال میں ملک بھر میں ایم بی بی ایس ، پی جی سوپر اسپیشالیٹی طبی نشستوں پر مشتمل رپورٹ جاری کی ہے ۔ فہرست میں تلنگانہ کو پی جی سوپر اسپیشالیٹی نشستوں کے لحاظ سے 7 واں اور 175 سوپر اسپیشالیٹی نشستوں میں 10 واں مقام حاصل ہوا ۔ پی جی سوپر اسپیشالیٹی نشستوں میں پہلے 5 مقامات میں 5523 ، مہاراشٹرا 5297 ، ٹاملناڈو کے علاوہ دوسری ریاستیں شامل ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل صرف 5 گورنمنٹ میڈیکل کالجس تھے ۔ جس کے بعد پہلے مرحلے میں 4 دوسرے مرحلے میں 7 گورنمنٹ میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ۔ جس سے 1150 ایم بی بی ایس نشستوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ 8 سال میں سرکاری میڈیکل کالجس کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے آئندہ سال مزید 9 اور اسکے بعد مزید 8 میڈیکل کالجس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ جس کے بعد میڈیکل کالجس کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہونچ جائے گی جس سے ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافہ کا امکان ہے ۔۔ ن