دریائے گوداوری میں سیلابی قہر بھدرا چلم میں خطرہ بڑھ گیا ۔ کڈم ڈیم کا خطرہ ٹلا ‘ مختلف مقامات سے 19ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا
حیدرآباد۔/14 جولائی، ( سیاست نیوز) دریائے گوداوری میں سیلاب کے قہر سے ضلع نرمل کے کڈم پراجکٹ کو جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا وہ ٹل گیا ہے۔ مگر ضلع کھمم کے بھدرا چلم میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حکام نے تیسرے خطرے کا انتباہ دیتے ہوئے 144 سیکشن نافذ کردیا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش سے 10 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ لاپتہ صحافی ضمیر کی کار کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ضلع منچریال چنور منڈل میں ندی میں پھنسے ہوئے دو مزدوروں کو ہیلی کاپٹر سے لفٹ کرتے ہوئے بچایا گیا ہے۔ ایک ہفتہ کی بارش سے 10.76 لاکھ ایکر اراضی پر محیط فصلیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ 19 ہزار سے زائد افراد کو راحتی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریاست بھر میں بارش کا سلسلہ کسی قدر کم ہوا ہے تاہم سیلاب کے پانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ تمام آبپاشی پراجکٹس لبریز ہوگئے اور ان کے گیٹس کھول کر پانی نچلے حصہ میں چھوڑنے کی وجہ سے ندیاں اور تالاب بھی بھر گئے۔ کئی تالابوں میں شگاف پڑ گیا ہے جس سے مختلف مقامات پر سڑکوں پر پانی آگیا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں ماثر ہوئی ہیں۔ سینکڑوں گاؤں، کالونیوں، بستیوں اور قصبوں میں پانی داخل ہوگیا ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر وزراء اضلاع میں قیام کرتے ہوئے راحت کاری کے کاموں کی راست نگرانی کررہے ہیں۔ نیشنل واٹر کمیشن منچریال سائیٹ نمبر 44 دفتر کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ گوداوری میں سیلابی پانی کی سطح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ 10 اکٹوبر 1995 کو گوداوری کی پانی کی سطح سطح سمندر سے 14.3 میٹر اوپر تھی اب اس کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ جمعرات کی صبح 6 بجے 14.82 میٹر کی بلندی سے بہہ رہا ہے۔ عہدیدار اندازہ لگارہے ہیں کہ سیلابی پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ بھدرا چلم کے گوداوری پل پر ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔ پُل کی تاریخ میں دوسری مرتبہ ٹریفک معطل کردی گئی ہے۔ اس سے قبل 1986 میں ٹریفک معطل کی گئی تھی۔ 36 سال بعد دوبارہ ٹریفک کی سرگرمیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی سیکشن 144 بھی نافذ کیا گیا ہے۔ ضلع ملگ کے وینکٹ پورم منڈل میں واقع الیکا موضع میں رہنے والے ایک کسان کے دو ٹریکٹرس پانی میں بہہ گئے ہیں ۔ دریائے گوداوری میں سیلابی قہر کو دیکھتے ہوئے گاؤں میں پانی داخل ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کو خالی کردیا گیا ہے۔ منچریال ضلع کے چنور منڈل کے واٹر ٹینک میں پھنسے دو کسانوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے باہر نکالا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے مقامی رکن بی سمن نے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کو اطلاع دیتے ہوئے بچاؤ کاری کیلئے ہیلی کاپٹر کی خدمات حاصل کی۔ ضلع جئے شنکر بھوپال پلی کے مہادیو پور منڈل میں کالیشورم پراجکٹ کے تحت تعمیر کردہ لکشمی پمپ ہاؤز میں پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے 17 موٹرس پانی میں ڈوب جانے کی اطلاعات ہیں۔ بھدرا چلم کے پاس فی الحال 18.16 لاکھ کیوکس پانی بہہ رہا ہے۔ پانی کی سطح 60.20 میٹر تک پہنچ چکی ہے۔ رات دیر گئے تک 70 میٹر تک پہنچ جانے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ نشیبی علاقوں سے عوام کو بڑے پیمانے پر محفوظ مقامات کو منتقل کیا جارہا ہے۔یادادری کے نارائن پور منڈل میں واقع مری بائی تانڈہ میں برقی شاک لگنے سے دو مزدور انیل اور پرشانت کی موت واقع ہوگئی ہے۔ نظام آباد کے مضافاتی علاقہ خانہ پور کے علاقہ میں پانی میں بہہ جانے سے ایک شخص کی موت واقع ہوگئی۔ کمشنر پولیس ناگراجو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پانی کے قریب نہ جائیں بلکہ احتیاط سے کام لیں۔ ضلع نرمل کے لکشمن چندا منڈل میں مکان منہدم ہونے سے 65 سالہ چنتیا کی موت واقع ہوگئی۔ ضلع کمرم بھیم آصف آباد میں راحت کاری میں مصروف ریسکیو ٹیم کے ارکان ٹی رمیش اور اے راملو ایک حاملہ خاتون کو بچانے کے دوران پانی میں غرقاب ہوگئے۔ آصف آباد کے کستوربا اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو گھر لے جانے 8 افراد ٹاٹا میجک گاڑی میں روانہ ہوئے تھے ضلع عادل آباد کے اوٹنور منڈل میں گاڑی بے قابو ہوکر درخت سے ٹکرا گئی۔ اس حادثہ میں 31 سالہ ساویتا، 45 سالہ ناگمنی، 55 سالہ امرت راؤ کی موت ہوگئی۔ کندکور میں ایک 40 سالہ جونیر لائن مین کورونیا کی برقی کھمبے سے گر کر فوت ہوگیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام نے بتایا کہ ایک ہفتہ سے بارش سے ریاست میں تقریباً 10.76 لاکھ ایکر اراضی پر محیط فصلوں میں پانی داخل ہونے کی ابتدائی رپورٹ تیار ہوئی ہے۔ محکمہ عمارات و شوارع کے عہدیداروں نے بتایا کہ حالیہ بارش سے ریاست کے 28 مقامات پر قومی شاہراہوں اور 86 مقامات پر ریاستی شاہراہوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ پنچایت راج کی 120 سڑکیں پوری طرح جھیل میں تبدیل ہوچکی ہیں صرف ضلع سنگاریڈی میں 220 کیلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ ریاست میں 500 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ریاست میں 34 سال بعد ماہ جولائی میں اتنی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ۔30 مقامات پر 20 سنٹی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ۔ جینور میں سب سے زیادہ 39.10 سنٹی میٹر بارش ہوئی۔ ن