بدلاپور کیس کے ملزم کو سخت سزاکا مطالبہ:حلقہ خواتین جماعت اسلامی

   

بیڑ: تھانے ضلع کے بدلا پور میں دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور عصمت دری کی کوشش نیز آر۔ جی۔ میڈیکل میڈیکل کالج میں ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ وحشیانہ زیادتی اور اس قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے ، ا س وحشیانہ فعل کو انجام دینے والے خاطیوں کے خلاف فوری مقدمہ چلا کر انھیں سخٹ سے سخت سزا دینے کا مطالبہ بیڑ میں جماعت اسلامی ہند، حلقہء خواتین کی جانب سے کیا گیا۔ اس ضمن میں ضلع کلکٹر می معرفت حکومت کو ایک محضر پیش کیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند، حلقہء خواتین کی جانبکیا گیا یے کہ میں خواتین کے ساتھ دن بدن پیش آرہے ظلم و زیادتی، جنسی ہراسانی اور قتل جیسے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ایسے معاملات میں ایک سخت قانون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے جرائم کے خلاف ایک سخت قانوں لایا جائے ۔حکومت کو پیش کردہ محضر میں کہا گیا ہے کہ، “بدلاپورکیس میں ہم ملزمان کے خلاف فوری ٹرائل اور سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جس اسکول میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کے حکام کو حفاظتی اور حفاظتی اقدامات پر عمل نہ کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے ( وہاں پر کوئی خاتون ملازمہ اور کوئی سی سی ٹی وی کیمرے نہیں)۔ ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرنے والے بدلاپور پولیس افسران کے خلاف بھی تعزیری کارروائی کی جائے ۔ کولکتہ میں ٹرینی ڈاکٹر کیس میں، ہم یہ پڑھ کر حیران رہ گئے کہ متاثرہ کا جسم متعدد زخموں کے ساتھ پایا گیا، جس میں جنسی زیادتی اور گلا دبانے کے ثبوت بھی شامل ہیں۔ان دونوں جرائم کی بھیانک نوعیت نے پورے ملک اور ہندوستان میں خواتین میں غم و غصے کو جنم دیا ہے ۔ خاص طور پر اسکولوں، کالجوں اور کام کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کے تحفظ کے مسئلے کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔محضر میں جو نکات پیش کیے گئے ان میںگہرائی سے تفتیش: متاثرین کیلئے انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ان مقدمات کی جامع تحقیقات اور ہم قانونی نظام پر اعتماد کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
“حفاظتی اقدامات کا نفاذ: تمام تعلیمی اداروں میں سخت حفاظتی ضوابط کا نفاذ بہت ضروری ہے ، جس میں سیکورٹی کیمرے ، اچھی روشنی، اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم شامل ہونا چاہیے “۔ ” بیداری کی مہمات: خواتین کے احترام کو فروغ دینے اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے ۔ کمیونٹی کی سطح پر اتفاق رائے کی اہمیت اور خواتین کے خلاف تشدد کے سنگین نتائج کے بارے میں آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا جانا چاہئے “.”متاثرین کے لیے امداد: جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے وقف امدادی نظام، بشمول مشاورت، قانونی مدد اور طبی دیکھ بھال، قائم کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کے لیے آگے آنے اور جرائم کی رپورٹ کرنے میں آسانی ہو”۔”قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب: قانون نافذ کرنے والے نظام میں احتساب کے نظام کی شدید ضرورت ہے ، تاکہ تمام افسران شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور خواتین کے خلاف تشدد کی شکایات پر فوری کارروائی “اخلاقیات: ہم معاشرے اور حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسکولوں میں اخلاقیات کی تعلیم کو متعارف کروائیں اور کردار سازی کے کام پر زور دیں۔ مین اسٹریم میڈیا، سوشل میڈیا اور تفریحی صنعت میں کھلے عام رائج فحاشی، بے حیائی، کو روکنے اور کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ جنسی جرائم پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک مقدس اور خدا ترس معاشرے کی تشکیل کی جائے ، جہاں خواتین کو عزت دی جائے اور ان کا جائز اور باوقار مقام دیا جائے “۔جماعت اسلامی ہند، حلقہء خواتین بیر کی جانب سے امید ظاہر کی گئی کہ حکومت ان خدشات اور تجاویزات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مستقبل میں ایسے غیر انسانی واقعات کی سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہین عامر علی ڈسٹرکٹ آرگنائزر، حلقہء خواتین ، جماعت اسلامی ہند بیڑ اور قیصر سلطانہ قدیر الدین شہرناظمہ، شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند، بیڑ کی کئی خواتین ارکان اور سید شفیق ہاشمی، ڈاکٹر سراج خان آرزو وغیرہ موجود تھے .