برازیل کے سابق صدر کے حامیوں کا پارلیمنٹ عمارت پر حملہ

   


داسلوا کو نیا صدر ماننے سے انکار ، استعفیٰ کا مطالبہ،پارلیمنٹ ہاوز میںتوڑ پھوڑ

برازیلیا: برازیل میں سابق صدرجیربولسونارو کے حامیوں نے پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کر تے ہوئے صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ صدر نے پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف آپریشن کا حکم جاری کر دیا۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کرنے والے مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے بعد پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسوگیس کا استعمال کیا گیا۔مظاہرین نے داسلوا کو نیا صدر ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔برازیلین حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت اور اطراف کا علاقہ سیل کردیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق سابق صدر کے حامیوں نے صدارتی محل، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عمارت کا گھیراؤ کرکے توڑ پھوڑ کی اور نئے صدر کے خلاف نعرے لگائے۔میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں سے قبضہ چھڑا کر علاقے کو سیل کردیا ہے۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا گیا جبکہ 400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر داسلوا نے سیکیورٹی فورسز کو دارالحکومت برازیلیا میں مظاہرین کے خلاف بھرپور کاروائی کا حکم دے دیا ہے۔دوسری جانب امریکہ ، فرانس اور اقوام متحدہ نے برازیل میں کانگریس عمارت پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔