برڈ فلو کا پھیلاؤ، چیک ریپبلک میں 7 لاکھ سے زائد مرغیاں تلف کرنے کا حکم

   

لندن :وسطی یورپی ملک چیک ریپبلک کے ایک فارم کو سات لاکھ 50 ہزار مرغیاں تلف کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ملک کی کل مرغیوں کی 15 فیصد تعداد بنتی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپ بدترین برڈ فلو سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔پولٹری بریڈرز کے یونین کے رکن گبریلا لوھا کا کہنا ہے کہ مغربی حصے میں واقع براڈ نیڈ تیشو کے گاؤں میں یہ پولٹری فارم چیک جمہوریہ کا سب سے بڑا فارم ہے۔حالیہ ہفتوں میں مرغیوں کے 12 سے زیادہ فارم برڈ فلو سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس نے یورپ بھر میں بھی فارمز کو متاثر کیا ہے۔سرکاری ویٹرینری ایڈمنسٹریشن ایس وی ایس نے ایک بیان میں صورت حال کو سنگین قرار دیا ہے۔
گبریلا لوھا کے مطابق ’ایس اور ایس نے رواں برس چار نئی وباؤں کو رجسٹر کیا ہے اور براڈ نیڈ تیشو کے فارم میں مرغیاں تلف کرنے کے بعد انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔گذشتہ ماہ چیک کے کسانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ برڈ فلو کی قسم ایچ فائیو این ون کو روکنے کے لیے مرغیوں کو اندر ہی رکھا جائے۔ یہ وائرس ممکنہ طور پر انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔لاکھوں مرغیوں کو تلف کرنے بعد گزشتہ ماہ یورپ کے صحت کے حکام نے کہا تھا کہ براعظم کو سال کا ’سب سے زیاد تباہ کن‘ وبائی مرض دیکھنا پڑا۔اکتوبر 2021 اور ستمبر 2022 کے درمیان 37 یورپی ممالک کے فارمز پر دو ہزار 500 وبائی امراض کا پتا چلا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ کروڑ مرغیوں کو ذبح کرنا پڑا۔