امریکہ : دنیا کے کئی اہم ملکوں پر مشتمل گروپ برکس کا امریکی ڈالر کو چیلنج کرنا ایک افسانوی سی بات لگتی ہے کیونکہ چین اور ہندوستان میں اختلاف بدستور برقرار ہے اور وہ تجارت کے معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں۔یہ بات اس گروپ کے نام کا مخفف ’’برکس’’ رکھنے والے ماہر اقتصادیات جم او نیل نے ایک انٹرویو میں کہی۔روس کے صدر ولادیمر پوٹن برکس کے اجلاس کو یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں کہ ماسکو کو یوکرین جنگ کے معاملے پر دنیا میں تنہا کرنے کی مغرب کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور یہ کہ روس ایشیا کی اُبھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کررہا ہے۔ میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں گولڈ مین سیکس کمپنی کے سابق چیف ماہر اقتصادیات جم او نیل نے کہا کہ برکس کا جی سیون گروپ کی طرح کا ایک حقیقی اقتصادی کلب ہونے کا خیال پریوں کی سی بات لگتی ہے۔