سپریم کورٹ میں تلنگانہ حکومت کے وکیل کی بحث
حیدرآباد ۔ 10 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں واضح کیا ہے کہ ریاست کے گورنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ کابینہ کی تجویز اور اس کی مدد کے مطابق فیصلہ کریں اور اسمبلی کی جانب سے منظورہ بلز کو کلیئرنس دینے میں تاخیر نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی کی زیر قیادت پانچ رکنی بنچ پر صدر جمہوریہ اور گورنرس کے اختیارات کے مسئلہ پر سماعت کے دوران تلنگانہ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نرنجن ریڈی نے بحث کی۔ انہوں نے دستوری بنچ پر صدارتی ریفرنس سے متعلق بحث میں دلائل پیش کرتے ہوئے گورنر کی جانب سے سرکاری بلز کی منظوری میں تاخیر کی مخالفت کی۔ سپریم کورٹ میں گزشتہ 9 دنوں سے اس مسئلہ پر سماعت جاری ہے۔ نرنجن ریڈی نے دستور کی دفعہ 200 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کو کابینہ کے مشورہ کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے اور اس سلسلہ میں گورنر کو اضافی اختیارات حاصل نہیں ہے ۔ دستور کی دفعہ 200 کے تحت گورنر کے اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ اروند داتار نے کہا کہ گورنر کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے تین ماہ کی مہلت مقرر کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ کیرالا حکومت کے وکیل کے کے وینو گوپال نے بتایا کہ ریاست کے سابق گورنر نے حکومت کی جانب سے روانہ کردہ بلز کی منظوری کے ذریعہ کارکردگی میں مدد کی تھی۔ ملک کی غیر بی جے پی ریاستوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل پیش کئے گئے کہ اسمبلی میں منظورہ بلز کے کلیئرنس کے لئے گورنرس کی جانب سے غیر معمولی تاخیر ٹھیک نہیں ہے۔1