بنگال میں پہلی بی جے پی حکومت

   

نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
بالآخر بنگال میں ایک سیاسی ڈرامہ ختم ہوا اور بی جے پی نے ریاست میں پہلی بار اپنی حکومت بنالی ہے ۔ بنگال میں بی جے پی کیلئے اقتدار حاصل کرنے کا خواب پورا ہوگیا اور سوویندو ادھیکاری ریاست میں بی جے پی کے پہلے چیف منسٹر بن گئے ہیں۔ آج انہوں نے حلف لے لیا ہے اور ان کے ساتھ دیگر پانچ وزراء کو بھی حلف دلایا گیا ہے ۔ تقریب حلف برداری میںخود وزیر اعظم نریندر مودی نے شرکت کی جبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے سارے انتخابی عمل کی نگرانی کی ۔ جس وقت بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تھا اس وقت اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ بنگال میں اب بدلاو کی سیاست ہوگی بدلہ کی سیاست نہیں ہوگی ۔ اس بیان پر بی جے پی حکومت کو عمل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ گذشتہ چند دن میں جبکہ بی جے پی نے ابھی اقتدار سنبھالا بھی نہیں تھے ریاست میں جو واقعات پیش آئے ہیں وہ تشویشناک کہے جاسکتے ہیں۔ کئی مقامات پر ہندوتوا وادی کارکنوں نے جو ہنگامہ آرائی کی تھی اس سے بنگال کے مستقبل کے تعلق سے شبہات تقویت پانے لگے تھے ۔ جس طرح سے ترنمول کانگریس کے دفاتر کو تو پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا اور کچھ مقامات پر آگ ز نی بھی کی گئی تھی وہ ناقابل قبول عمل تھا ۔ اس کے علاوہ ریاست میں اقلیتوں کو دھمکانے کے واقعات بھی پیش آنے لگے تھے اور بلڈوزر کے ذریعہ اقلیتوں کو دھمکایا جا رہا تھا ۔ یہ کوئی جمہوری عمل نہیں تھا ۔ ریاست میں جمہوری عمل کے ذریعہ اقتدار کی تبدیلی ہوئی ہے ۔ حالانکہ اس عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاںاور غیرقانونی سرگرمیاں بھی ہوئی ہیں اور کئی سیاسی جماعتیں اس کے الزامات بھی عائد کر رہی ہیں لیکن جمہوری عمل بظاہر اپنے منطقی انجام کو پہونچ چکا ہے اور ریاست میں نئی حکومت تشکیل بھی پاچکی ہے ۔ اب اس حکومت کو ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو بحال کرنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ جو وعدے عوام سے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انتقامی سیاست کی اجازت قطعی نہیں دی جانی چاہئے اور جن لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے اور جن لوگوں نے نہیں بھی دیا ہے ان سب کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کا آغاز فوری کیا جانا چاہئے ۔
جمہوریت اس عمل کا نام نہیں ہے کہ کسی ایک فرقہ کیلئے کام کیا جائے اور دوسرے فرقہ کو محروم کردیا جائے ۔ کسی بھی فرقہ یا مذہب کے ماننے والوں سے کوئی امتیازی سلوک جمہوریت میں رواء نہیں رکھا جاسکتا ۔ حکومتوں کو دستور کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں ۔ حکومتوں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ دستورہ ند میں پوری طرح سے واضح ہیں اور اسی دستور میںیہ واضح ہدایت موجود ہے کہ سماج کے کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی بھید بھاو نہ کیا جائے اور نہ کسی کو اس کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے ۔ بنگال میں اقتدار کیلئے بی جے پی نے طویل عرصہ سے کوششیں کی تھیں۔ ریاست کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو پراگندہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا تھا ۔ اب جبکہ حکومت تشکیل پاچکی ہے اور چیف منسٹر نے حلف بھی لے لیا ہے تو ریاست کی بہتری اور ترقی کیلئے اقدامات کرنے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے والے سوویندو ادھیکاری اور کچھ دوسرے قائدین نے گذشتہ عرصہ میں جو بیانات دئے تھے وہ اب حکومت کی ترجیح نہیں ہونے چاہئیں ۔ حکومت کی ترجیح وہ وعدے ہونے چاہئیں جو پارٹی نے انتخابات سے قبل عوام سے کئے تھے ۔ بنگال کی جو ثقافتی اور کلچرل روایات ہیں ان کا احترام کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے حکومت کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
عوام کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف میں کسی طرح کا امتیاز نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی ریاست کو ہندوتوا کی تجربہ گاہ بنانے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ جن ریاستوں میں بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے ان ریاستوں میں گذشتہ عرصہ میں جو حالات اور واقعات پیش آئے ہیں ان کا بنگال میں اعادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے تو صرف ترقیاتی ایجنڈہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ فرقہ پرستانہ ایجنڈہ کا کوئی عروج نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر ایسا نہیںکیا گیا تو پھر وہ اعتماد پارہ پارہ ہوجائیگا جو بی جے پی کے حساب سے ریاست کے عوام نے اس پر ظاہر کیا ہے ۔ عوامی اعتماد کو برقراررکھنا ہی بی جے پی کیلئے اصل چیلنج ہوگا۔
پنجاب کے وزیر کی گرفتاری
ایسا لگتا ہے کہ بنگال میں اقتدار حاصل کرتے ہی بی جے پی نے اب اپنی توجہ پنجاب پر مرکوز کردی ہے ۔ حالانکہ پنجاب میں ابھی فوری طور پر انتخابات نہیں ہیں تاہم یہ دعوے کئے جا رہے کہ بی جے پی کی جانب سے پنجاب میں بھی حکومت قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ گذشتہ دنوں راگھو چڈھا اور دیگر چھ ارکان راجیہ سبھا کی بی جے پی میں شمولیت کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ آج پنجاب کے وزیر سنجیو اروڑہ پر ای ڈی نے دھاوے کئے اور ان کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار بھی کرلیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی نے آپریشن لوٹس شروع کرتے ہوئے پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی میں شامل کرنے کی مہم شروع کردی ہے ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ راگھو چڈھا کو ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اور وہ اس مہم پر سرگرم بھی ہوچکے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے حلقوں میں بھی اسی طرح کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال جمہوریت کیلئے خطرہ کہی جاسکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک عوامی منتخبہ حکومت کو ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔ ملک کے عوام کو اس صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جمہوریت کے تحفظ اور اس کی بقاء کیلئے فوری طور پر حرکت میں آنے کی بھی ضرورت ہے ۔