بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے پر رام لال جی سمن کی سخت تنقید

   

نئی دہلی :بنگلہ دیش میں اقلیتوں خصوصاً ہندؤوں کو نشانہ بنانے پر سابق مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا رکن رام لال جی سمن تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے والے تشدد کو بند کرنا چاہئے ۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل 1950 میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے مابین اقلیتوں کے تحفظ پر ہونے والا معاہدہ ہے ۔ خیال رہے کہ1950 میں موجودہ بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا۔اسے لیاقت نہرو پیکٹ یا دلی سمجھوتہ کہا جاتا تھا۔انھوں نے کہاکہ اس سمجھوتہ کا مقصد دونوں ممالک میں امن اور بھائی چارہ کو یقینی بنانا تھا۔ اس سمجھوتہ میں یہ یقینی بنایا گیا کہ دونوں ممالک اقلیتوں کا تحفظ کریں گے ۔راجیہ سبھا کے رکن نے کہا کہ حال ہی میں بنگلہ دیش کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی علیحدگی کے بعد اگست سے ملک میں اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ڈھاکہ سے اطلاعات کے مطابق عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے ترجمان نے کہا کہ ان حملوں میں 70 افراد گرفتارکئے گئے ہیں ۔ تقریباً 17 کروڑ آبادی والے بنگلہ دیش میں ڈیڑھ کروڑ ہندو، دس لاکھ بدھ مت کے پیروکار، اور تقریباً پانچ لاکھ مسیحی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی دنیا بھر کے ممالک میں اقلیتوں کے مفادات کی بھرپور حامی رہی ہے ۔