ایک سال کے دوران 48 اسمبلی حلقوں سے 150 سے زائد اہم قائدین پارٹی سے مستعفی
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس پارٹی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور پارٹی کے سینئیر قائدین کی وفاداریاں تبدیل کرنے سے جو نقصان ہوا ہے ۔ اس کو دور کرنے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے لوک سبھا انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل اور بعد میں 48 اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے قائدین بی آر ایس سے مستعفی ہوگئے ۔ جس سے بی آر ایس پارٹی کو بہت بڑا دھکا پہونچا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل رابطہ کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے درمیان تال میل پیدا کرنے کی خصوصی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ پارٹی کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی آر ایس کے 150 سے زائد اہم قائدین بی آر ایس سے مستعفی ہوگئے ۔ یہاں تک کے پارٹی کے ارکان اسمبلی بھی بی آر ایس کا ساتھ چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ چند ایسے بھی قائدین پارٹی سے ناراض ہیں جنہوں نے پارٹی اور حکومت میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے دچکے ہیں ۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ وہ بھی وفاداریاں تبدیل کرچکے ہیں ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد کے سی آر پارٹی کو نئے سرے سے مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ پارٹی کے صدر کے سی آر ، بی آر ایس کے سینئیر قائدین سے مشاورت کررہے ہیں ۔ جن اسمبلی حلقوں سے پارٹی کے اہم قائدین کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں ۔ ان اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے دوسرے یا تیسرے درجہ کے قائدین کو ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں ۔ ساتھ ہی پارٹی کی از سر نو تشکیل جدید میں انہیں اہم عہدے دینے کے وعدے کئے جارہے ہیں تاکہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو مزید نقصانات سے بچایا جاسکے ۔ بی آر ایس کے ایم ایل اے پی راجیشور ریڈی کو اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور ایم ایل سی پی سرینواس ریڈی کو اسمبلی حلقہ وردھنا پیٹ ، سابق رکن پارلیمنٹ بی لنگیا یادو کو اسمبلی حلقہ حضور نگر کا انچارج بناتے ہوئے ان کی قیادت میں رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔ اسمبلی حلقہ جات بھدرا چلم ، مدھول ، خیریت آباد میں پارٹی کے اہم قائدین پر مشتمل رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔۔ 2