بی آر ایس منحرف ارکان کو اندرون 2 ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت

   

تلنگانہ ہائی کورٹ میں تمام مقدمات کی یکساں سماعت کے لیے 3 ہفتہ بعد کی تاریخ مقرر
حیدرآباد۔27۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آر ایس سے انحراف کرتے ہوئے کانگریس میںشمولیت اختیار کرنے والے اراکین اسمبلی کو قطعی مہلت فراہم کرتے ہوئے انہیں اندرون دو ہفتہ اپنے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انحراف سے متعلق تمام 10 مقدمات کی یکساں سنوائی کو یقینی بنانے کے لئے آئندہ سماعت کے لئے 3 ہفتہ بعد کی تاریخ مقرر کی جائے۔ بی آ رایس سے انحراف کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی ڈی ناگیندر اور بی کرشنا موہن ریڈی کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں کی جانے والی تاخیر سے درخواست گذار کے وکیل نے عدالت کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے فیصلہ کے خلاف داخل کی گئی اس درخواست کی سماعت کے دوران متعدد مرتبہ دونوں اراکین اسمبلی کو وقت فراہم کئے جانے کے باوجود ان کے جواب اب تک داخل نہیں کئے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دونوں اراکین اسمبلی کو قطعی مہلت فراہم کرنے کے احکام جاری کئے ہیں اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرون 2 ہفتہ اپنے جوابی حلف نامہ داخل کریں ۔درخواست گذارکے وکیل نے الزام عائد کیا کہ عدالت سے وقت طلب کرتے ہوئے وقت ٹالنے کی جوکوشش کی جارہی ہے یہ جان بوجھ کر ٹال مٹول کرنے کے مترادف ہے اسی لئے عدالت کو اس معاملہ میں قطعی مہلت فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے۔ درخواست گذار کی استدعا کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انحراف کے معاملہ میں زیردوراں تمام مقدمات کی یکسوئی کو یقینی بنانے کیلئے ان کی یکساں سماعت کے اقدامات کئے جائیں اور ضرورت پڑنے پر اس معاملہ کی علحدہ علحدہ سماعت بھی ممکن ہوگی لیکن ابتداء میں تمام مقدمات کی یکساں سماعت کیلئے اقدامات کی تاکید کی جارہی ہے۔عدالت نے ان مقدمات کے تمام فریقین کو اندرون 3 ہفتہ اپنے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔3/A/b