بی آر ایس کے 10 سالہ اقتدار میں کویتا کو پسماندہ طبقات کا خیال نہیں آیا

   

بی سی تحفظات بل کو گورنر کی منظوری حکومت کی پہلی کامیابی، رکن اسمبلی بی ایلیا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 2 مئی (سیاست نیوز) گورنمنٹ وہپ بی ایلیا نے بی آر ایس رکن کونسل کویتا کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جس میں اُنھوں نے کمزور طبقات کو انصاف کی فراہمی میں تلنگانہ حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا۔ بی ایلیا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بی آر ایس کی 10 سالہ حکمرانی میں کے سی آر حکومت کو کبھی بھی پسماندہ طبقات کی بھلائی کا خیال نہیں آیا۔ حکومت صرف قرض حاصل کرنے میں مصروف رہی اور 8 لاکھ کروڑ قرض حاصل کرتے ہوئے خوشحال تلنگانہ کو مقروض تلنگانہ میں تبدیل کردیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس دور میں کویتا کو پسماندہ طبقات کا خیال نہیں آیا اور آج کانگریس حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقتدار سے محرومی کے بعد بی آر ایس قائدین پسماندہ طبقات سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔ بی ایلیا نے کہاکہ 10 سالہ بی آر ایس دور حکومت میں جو فلاحی اسکیمات ادھوری رہیں اُن پر کانگریس نے دیڑھ سال میں عمل کیا ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل اور فلاحی اسکیمات کے معاملہ میں کانگریس حکومت نے ملک میں ریکارڈ قائم کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں تلنگانہ پہلی ریاست ہے جس نے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لئے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا اور پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے۔ رکن اسمبلی نے کہاکہ کانگریس قائد راہول گاندھی کے نظریہ کی تکمیل کرتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت نے سماجی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی سی تحفظات قانون کو گورنر کی جانب سے منظوری حکومت کی پہلی کامیابی ہے۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کو بل کی منظوری کے ذریعہ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانا چاہئے۔1