ایم ایل سی الیکشن سے دُوری کی وضاحت ، اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں میں ناکامی پر پارٹی میں مایوسی
حیدرآباد۔ 11فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کیڈر میں مایوسی پائی جاتی ہے جس کے پیش نظر بی آر ایس پارٹی نے کونسل کے انتخابات سے دُوری اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ اس میں چھپانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ سازباز ہونے کانگریس پارٹی جو الزام عائد کررہی ہے، اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اس الزام کو بی آر ایس مسترد کرتی ہے۔ درحقیقت یہ ہے کہ بی آر ایس پارٹی نے ووٹر رجسٹریشن کرانے کے پروگرام میں حصہ نہیں لیا۔ اس لئے پارٹی ٹیچرس کوٹہ کے دو اور گریجویٹ کوٹہ کے ایک حلقہ کے ایم ایل سی انتخابات سے دُوری اختیار کئے ہوئے ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بی آر ایس انتخابات سے دُوری اختیار کررہی ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح کی پالیسی پر عمل کیا گیا ہے۔ بی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں فوری مردم شماری کرائے۔ ذات پات کی مردم شماری سے بچنے کیلئے مرکزی حکومت قومی سطح پر مردم شماری کرانے کے مسئلہ کو ٹال رہی ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی ازسرنو حد بندی، خواتین کے تحفظات پر عمل آوری کرنے سے بچنے کیلئے مرکزی حکومت بہانے بازی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی کرنے سے تلنگانہ کے موجودہ اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ تقسیم آندھرا پردیش کی بل میں وعدہ کیا گیا تھا کہ 2026ء کے دوران تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کی جائے گی۔ 2