بی این پی کا حسینہ واجد کے ٹرائل اور نئے انتخابات کا مطالبہ

   

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے حامیوں نے گزشتہ روز دارالحکومت ڈھاکہ میں بڑا مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔ بی این پی کی جانب سے عبوری حکومت سے نئے انتخابات اور فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بی این پی نے ڈاکٹر یونس کی زیرِ قیادت انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ تیزی سے کام کرے، حالانکہ وہ اصلاحات کیلئے مناسب ٹائم فریم دینے کیلئے تیار ہے۔ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے اگست میں فرار ہونے کے بعد سے ملک عبوری حکومت کے تحت چل رہا ہے۔ مظاہرین ڈھاکا کی سڑکوں پر ملک میں فوری انتخابات اور اصلاحات کیلئے مارچ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو وطن واپس لا کر ان کا ٹرائل کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر عبوری حکومت نے اگلے انتخابات کیلئے روڈ میپ تیار نہیں کیا تو بی این پی 2 سے 3 مہینوں میں سڑکوں پر احتجاج کے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں اس وقت نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے اگلے انتخابات کے لیے اب تک کسی ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا ہے۔