قومی عاملہ اجلاس میں وزیراعظم کی تجویز ، مسلمانوں کو ایس سی طبقہ میں شامل کرنے ڈاکٹر انور علی کا مشورہ
حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں پسماندہ مسلمانوں اور غیر ہندو طبقات کو قریب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ وزیر اعظم نریند مودی نے حیدرآباد میں منعقدہ بی جے پی کی قومی عاملہ کے اجلاس کے دوران اعظم گڑھ اور رامپور کی پارلیمانی نشست پر حاصل ہونے والی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے پسماندہ مسلمانوں کو پارٹی سے قریب کرنے کی تحریک چلانے کی تجویز پیش کی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ پارٹی کے عاملہ اجلاس کے دوران اترپردیش میں اقلیتی امور کے وزیر دانش انصاری کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے انہیں کابینہ میں شامل کرنے کے فیصلہ سے ہی بھارتیہ جنتاپارٹی نے مسلمانوں کو قریب کرنے کے اشارے دیئے ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے ملک بھر میں موجود غیر ہندو طبقات کو پارٹی سے قریب لانے کی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم آبادی کا بڑا حصہ پسماندہ مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے اسی لئے اس طبقہ کو پارٹی سے قریب لانے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی قیادت کا احساس ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کو معاشی ‘ سماجی اور تعلیمی طور پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جانے کی صورت میں وہ پارٹی سے قربت اختیار کرسکتے ہیں۔ پارٹی قائدین کاماننا ہے کہ ہندستان میں بسنے والے پسماندہ مسلمانوں کی اکثریت ہندو طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور پسماندہ مسلمان اپنے ان ہی پیشوں سے وابستہ ہیں جن پیشوں میں وہ داخل اسلام ہونے سے قبل وابستہ تھے۔پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں پسماندہ طبقات بالخصوص پسماندہ مسلمانوں کی نشاندہی کی مہم شروع کی تھی جو اب ایک تحریک بن چکی ہے۔ پارٹی کی جانب سے ملک میں پسماندہ مسلمانوں کے علاوہ جین اور دیگر اقلیتی طبقات کو پارٹی سے قریب کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر انور علی انصاری بانی و صدر پسماندہ مسلم محاذ کا کہناہے کہ اگر واقعی بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں پسماندہ مسلمانوں کو ترقی دینے کے حق میںہے تو ایسی صورت میں انہیں ایس سی طبقہ میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ انہو ںنے بتایا کہ پسماندہ مسلمانوں کی ترقی اور انہیں معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی طور پرمساوی مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے تو انہیں ایس سی طبقہ میں شامل کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پسماندہ مسلمانوں کا تذکرہ اور انہیں پارٹی سے قریب کرنے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کے مشورہ پر کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کے درمیان ذات پات کے نظام کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ مسلمانوں میں ذات پات کی کوئی تفریق نہیں ہے۔م