اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی مذمت، عزیز پاشاہ اور دیگر قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔20۔ جون (سیاست نیوز) بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں اور خاص طور پر اترپردیش نے مظاہرین کے خلاف بلڈوزر کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم انصاف نے آج دھرنا چوک پر احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ صدر آل انڈیا تنظیم انصاف اور سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ کی قیادت میں اس دھرنے میں یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد بالخصوص اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے تحت ان کی جائیدادوں اور مکانات کو منہدم کیا جارہا ہے۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ یوگی ادتیہ ناتھ نظم و نسق نے غیر قانونی کارروائیوں کے ذریعہ جمہوریت کو مذاق بنادیا ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بجائے ان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ عزیز پاشاہ نے الہ آباد اور کانپور میں حالیہ بلڈوزر کارروائیوں کو دستور کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ سماجی جہد کار جاوید کے خلاف کارروائی کی گئی حالانکہ مکان ان کی اہلیہ کا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران جاوید پر قواعد کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ جہانگیر پوری میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود غریوں کے مکانات کو نشانہ بنانے کے واقعات آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ اور تعمیرات کے خلاف حکام کو کارروائی کرنی ہے تو پھر دہلی میں 1730 کالونیوں کو منہدم کیا جائے جو غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئیں۔ ان کالونیوں میں 40 تا 50 لاکھ افراد بستے ہیں۔ بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس بی جے پی حکومتوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ کنوینر تلنگانہ او بی سی اسوسی ایشن پانڈو رنگا چاری نے بی جے پی حکومتوں کو غیر قانونی کارروائیوں سے گریز کا مشورہ دیا۔ جوائنٹ کنوینر تلنگانہ اسٹیٹ انصاف کمیٹی منیر پٹیل نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومتیں دن دھاڑے قانون اور دستور کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ تلنگانہ پروگریسیو رائٹرس اسوسی ایشن کے بنسی لال کے علاوہ سلمان بیگ ، محمد سلیم ، محمد جمیل ، محمد غوث ، محمد ندیم ، محترمہ پروین سلطانہ ، خلیل اللہ اور دوسروں نے مخاطب کیا۔ر