یہ جتنے مسئلے ہیں مشغلے ہیں سب فراغت کے
نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
ملک کے قائدا پوزیشن راہول گاندھی حالیہ عرصہ میں جس طرح سے عوامی مسائل پر سرگرم ہوئے ہیں اور انتہائی جارحانہ تیور کے ساتھ بے خوف انداز میں حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور حکومت کی ناکامیوں اور اس کی پالیسیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اس کے نتیجہ میں بی جے پی کے کئی قائدین راہول گاندھی کو تنقیدوں کا نشانہ بنانے لگے ہیں۔ گدشتہ دنوں راہول گاندھی نے مہاراشٹرا کے شہر پونے میں طالبات کے ساتھ چھاتروں کی گونج پروگرام منعقد کیا تھا ۔ اس پروگرام میں انہوں نے منوسمرتی میں خواتین کے تعلق سے نامناسب تذکرہ کا حوالہ دیا تھا ۔ اس کے بعد بی جے پی حسب روایت راہول گاندھی کو نشانہ بنانے اور مذہبی آڑ لینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے بھی راہول گاندھی کے خلاف بیان بازی کی ہے اور کہا کہ راہول گاندھی ملک کے تاریخی ورثہ کو نشانہ بنانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی راہول گاندھی کے چھاتروں کی گونج پروگرام کو کامیڈی شو قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے تفریح کا سامان قرار دے رہا ہے ۔ غرض یہ کہ بی جے پی کے تمام قائدین راہول گاندھی کے خلاف بیان بازیوں میں مصروف ہوگئے ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی بوکھلاہٹ اور پریشانی کا ثبوت پیش کرنے لگے ہیں۔ سیاسی اختلافات اور نظریاتی دوری ضرور ہوسکتی ہے اور یہ سیاست کا حصہ بھی ہے تاہم عوامی مسائل کو موضوع بحث بنانے پر اس طرح کی بوکھلاہٹ ظاہر کرتی ہے کہ بی جے پی اورا س کے قائدین راہول گاندھی سے پریشان ہوگئے ہیں اور انہیں راہول گاندھی کو گھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں آ رہا ہے اور اس کوشش میں وہ مزید الجھن کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چھاتروں کی گونج کے ذریعہ راہول گاندھی ملک کے نوجوانوں سے جڑنا چاہتے ہیں اور طالبات کیلئے پروگرام کرتے ہوئے انہوں نے خواتین تک رسائی کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی کو اس پر بھی تشویش لاحق ہے اور وہ اس پروگرام کے تعلق سے بھی منفی تبصرے کر رہی ہے ۔
گاندھی خاندان ہندوستان کی سیاست کا ایک مرکز ہمیشہ سے رہا ہے ۔ اندرا گاندھی ‘ راجیو گاندھی کے بعد سونیا گاندھی سیاست کا حصہ بنیں تاہم ان تمام نے کبھی بھی اس قدر جارحانہ تیور اختیار نہیں کئے تھے جتنے اب راہول گاندھی اختیار کرچکے ہیں۔ پرینکا گاندھی بھی بالواسطہ طور پر اور اب راست طور پر سیاست کا حصہ بن گئی ہیں لیکن ان کی سیاست بھی نرم روش والی ہی رہی تھی ۔ راہول گاندھی کو مسلسل کئی برسوں تک نشانہ بنایا گیا اور ان کا سیاسی قد گھٹانے کی کوششیں کی گئیں۔ کروڑہا روپئے اس پر خرچ کئے گئے تاہم راہول گاندھی اس مہم سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ اسی مہم سے راہول گاندھی کو حوصلہ ملا ہے اور انہوں نے حکومت کے خلاف ایک طرح سے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا ہوا ہے ۔ بی جے پی اسی بات سے زیادہ متفکر اور پریشان نظر آتی ہے کہ راہول گاندھی کو گھیرنے کا کوئی موقع ان کے ہاتھ نہیں آرہا ہے کیونکہ راہول گاندھی پورا ہوم ورک کرنے کے بعد مسائل کی بنیاد پر عوام تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف گوشوں سے اس بات کی بھی توثیق ہونے لگی ہے کہ حالیہ عرصہ میں راہول گاندھی کی عوامی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور لوگ انہیں آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے وزارت عظمی امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بی جے پی اس حقیقت سے بھی پریشان ہونے لگی ہے کہ اس کی راہول گاندھی کو نشانہ بنانے والی مہم اب بے اثر ہونے لگی ہے ۔
بی جے پی قائدین کی یہ روش رہی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو عوامی سطح پر رسواء کرنے کی مہم شروع کردیتے ہیں اور اس میں تلوے چاٹو اینکرس بھی پورا رول نبھاتے ہیں۔ تاہم اب یہ کوششیں بے اثر ہوگئی ہیں کیونکہ عوام کے اپنے ہاتھ میں سوشیل میڈیا آگیا ہے اور سوشیل میڈیا نے ثابت کردیا کہ وہ انقلاب لانے کی طاقت بھی رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے قائدین پریشانیوں اور الجھنوں کا شکار ہوگئے ہیں اور انہیں راہول گاندھی سے نمٹنے کا فی الحال کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے ۔