حیدرآباد میں پانی کی کوئی قلت نہیں، بی جے پی اور بی آر ایس کے خلاف کل احتجاج کا اعلان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کو تلنگانہ میں ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ نریندر مودی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ گزشتہ 10 برسوں میں مسلسل ناانصافی کی ہے ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ نریندر مودی اور دیگر قائدین کو تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہئے کیونکہ گزشتہ 10 برسوں میں آندھر اپردیش تنظیم جدید قانون کے ایک بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت یو پی اے حکومت نے دونوں تلگو ریاستوں سے کئی وعدے کئے تھے تاکہ دونوں ریاستیں یکساں طور پر ترقی کرسکیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ بنڈی سنجے ، کشن ریڈی اور ڈی اروند جیسے قائدین وعدوں کی تکمیل کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤ بنانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام باشعور ہیں اور وہ بی جے پی پر بھروسہ نہیں کریں گے ۔ مرکزی حکومت نے غریبوں کے لئے فلاحی اسکیمات کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ وعدے کاغذی ثابت ہوئے۔ ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ نریندر مودی اور امیت شاہ نے حکومت کی ملکیت والی کئی اہم کمپنیوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دلت ، بی سی اور اقلیتوں کے خلاف ہے۔ ملک میں نفرت کے ایجنڈہ کے ذریعہ بی جے پی تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ رام مندر کی تعمیر کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے مودی کے کارنامہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان رام پر بی جے پی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے کشن ریڈی کو چیلنج کیا کہ وہ سکندرآباد کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت کے اقدامات کی تفصیلات جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کی بی جے پی نے مخالفت کی تھی ۔ مرکز میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد تنظیم جدید قانون میں کئے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔ بی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ خشک سالی اور کسانوں کی خودکشی کے نام پر بی آر ایس قائدین مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت ڈسمبر میں برسر اقتدار آئی اور مانسون کا آغاز آئندہ ماہ ہوگا۔ ایسے میں خشک سالی اور پانی کی قلت کے لئے کانگریس حکومت کو کس طرح ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خودکشی سے متعلق گمراہ کن اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ میں پانی کی موثر سربراہی کے لئے حکومت نے 10 سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کو ذمہ داری دی ہے ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ حیدرآباد میں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کی ناکامیوں کے خلاف تمام پارلیمانی حلقوں میں 14 اپریل کو دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کریم نگر لوک سبھا حلقہ کے امیدوار کے بارے میں پارٹی ہائی کمان فیصلہ کرے گا ۔ 1