بی جے پی کو شکست دینے منوگوڑ کیلئے چیف منسٹر کا 50 روزہ ایکشن پلان

   


88 ارکان مقننہ انچارج رہیں گے، اسمبلی سے قبل ضمنی چناؤ میں بہرصورت کامیابی کی تیاریاں

حیدرآباد 5 ستمبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات سے قبل چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے منوگوڑ ضمنی چناؤ میں اپنی طاقت جھونک دیں گے۔ عام انتخابات سے قبل یہ آخری ضمنی چناؤ ہوسکتا ہے اور سابق میں 4 ضمنی چناؤ میں بی جے پی نے 2 نشستوں پر قبضہ کیا جبکہ ناگر جنا ساگر اور حضور نگر میں ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ دوباک اور حضورآباد کی کامیابی سے بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں لیکن چیف منسٹر کانگریس کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے منوگوڑ میں کامیابی کے لئے پارٹی کے 88 ارکان اسمبلی کو دیہاتوں کے انچارجس کے طور پر مقرر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر نے پارٹی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور نلگنڈہ کے قائدین سے مشاورت کے بعد منوگوڑ ضمنی چناؤ کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنانا طے کیا ہے۔ 2018 ء سے ضمنی چناؤ کی تاریخ میں ٹی آر ایس اور بی جے پی 2-2 سے برابری پر ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جس پارٹی کو منوگوڑ میں کامیابی حاصل ہوگی، اسمبلی انتخابات میں اُس کا پلڑا بھاری رہے گا۔ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ منوگوڑ میں بی جے پی کسی بھی صورت میں کامیابی حاصل کرے۔ اُنھوں نے ضمنی چناؤ کے لئے 50 روزہ ایکشن پلان تیار کیا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ الیکشن کمیشن ستمبر کے اواخر یا اکٹوبر میں اعلامیہ جاری کردے گا۔ چیف منسٹر نے منوگوڑ کی صورتحال کے بارے میں خانگی اداروں سے سروے رپورٹ حاصل کی ہے اور ضلع کے قائدین سے علیحدہ طور پر رپورٹ طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے وزیر برقی جگدیش ریڈی کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دیتے ہوئے بتایا کہ 88 ارکان اسمبلی کو منوگوڑ کے لئے سرگرم کیا جائے گا اور جگدیش ریڈی کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ ارکان اسمبلی کو دیہاتوں کے انچارج مقرر کریں۔ گنیش اتسو تقاریب کے بعد 50 روزہ ایکشن پلان پر عمل آوری کا آغاز ہوگا جس کے تحت 1500 قائدین اور کارکنوں کو متحرک کیا جائے گا۔ عوامی نمائندے ہر منڈل اور گاؤں کا احاطہ کرتے ہوئے رائے دہندوں سے ملاقات کریں گے۔ منوگوڑ میں جملہ 176 مواضعات ہیں۔ر