موجودہ حالات پر دانشوروں کا اجلاس، قانون داں ، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکن کی شرکت
حیدرآباد ۔ 4 ۔ جولائی (سیاست نیوز) سہیوگ کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام ہندو مسلم دانشوروں کا اجلاس اسلام جمخانہ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ دانشوروں نے ملک میں گنگا جمنی تہذیب کے فروغ اور ہندو مسلم اتحاد کی برقراری کا عہد کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ہندوستان مذہبی رواداری کا گہوارا ہے اور ہندو مسلم اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اس کے محافظ ہیں۔ سہیوگ کلچرل سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالسمیع بوبیرے نے کہا کہ ملک میں بھائی چارہ کے فروغ کے مقصد سے اجلاس طلب کیا گیا اور اجلاس بالکلیہ غیر سیاسی نوعیت کا ہے۔ ہمیں سماج میں پھوٹ پیدا کرنے والی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہے تاکہ آپسی رشتوں کو بحیثیت ہندوستانی شہری مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں ڈھائی ہزار کے قریب نامعلوم افراد کے خلاف 100 سے زائد ایف آئی آر درج کئے گئے اور 500 سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ان حالات پر ہمیں غور کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ظہیر قاضی صدر انجمن اسلام نے کہا کہ مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے درمیان بات چیت کی ضرورت ہے۔ صورتحال کو بگڑنے سے بچانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔ صنعتکار وی آر شریف نے سیاسی وابستگی کے بغیر شہریوں میں مذہبی رواداری کے لئے کام کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اخلاق سے یہ ثابت کریں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیرو ہیں۔ صدر اسلام جمخانہ یوسف ابراہانی ایڈوکیٹ نے بات چیت کے ذریعہ مختلف مذاہب میں غلط فہمیوں کے ازالہ کا مشورہ دیا ۔ صدر انڈو عرب سوسائٹی ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر کہا کہ دیگر طبقات کو ہم اپنے اخلاق سے متاثر کرسکتے ہیں۔ اجلاس میں جسٹس ابھئے تھپسے اور جسٹس شفیع پرکار کے علاوہ سابق اسسٹنٹ کمشنر پولیس اقبال شیخ ، سید اسلم شاہ ، نورالدین سیو والا ، مصطفیٰ عارف ، جسٹس صلاح الدین قاضی ، زیبا ملک اور ساگر ترپاٹھی نے شرکت کی اور تجاویز پیش کیں۔ ر