بینک عہدیداروں کے غیرانسانی سلوک پر کے ٹی آر کی برہمی

   

قرض کی عدم ادائیگی پر کسان کے گھر کی گیٹ ہی اُکھاڑ دی ، سماج کے تمام طبقات ناراض
حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ نے ضلع جنگاؤں کے ایک گاؤں میں بھینسوں کیلئے لیا گیا قرض واپس نہ کرنے پر مکان کی گیٹ کو اُکھاڑ کر لے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ قرض کی عدم ادائیگی پر اس طرح کا غیرانسانی سلوک قابل مذمت ہے۔ کانگریس کا دورِ حکومت عوام کیلئے ’’عذاب‘‘ بن چکا ہے۔ کسان قرض ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ خواتین کے گلوں سے چین چھین لے جانے کے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ کسانوں کے گھروں کے دروازے اُکھاڑ لئے جارہے ہیں۔ برقی موٹرس اور اسٹاٹرس بھی چھین لیا جارہا ہے۔ ’’کیا عوام نے کانگریس پارٹی کو اسی لئے ووٹ دیا تھا‘‘، کے ٹی آر نے کانگریس حکومت سے یہ سوال کیا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے بینک عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے کسانوں کے 2 لاکھ روپئے کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے بینک عہدیداروں سے سوال کیا کہ وہ کیا قرض معاف نہ کرنے والے چیف منسٹر کے خلاف بھی اس طرح کی کارروائی کرسکتے ہیں؟ غریبوں کیلئے ایک قانون، عہدوں پر رہنے والے کیلئے دوسرا قانون کیسے ہوسکتا ہے؟ کے ٹی آر نے کہا کہ کسان سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کو سبق سکھانے کا انتظار کررہے ہیں۔ جب بھی مقامی اداروں کے انتخابات منعقد ہوں گے، وہ کانگریس کو شکست ِ فاش دیں گے ۔کانگریس پارٹی نے سماج کے تمام طبقات کو دھوکہ دیا ہے۔ جھوٹے اور بے بنیاد سروے کرتے ہوئے تمام طبقات کی آبادی کو گھٹا دیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگے۔ بی آر ایس کے احتجاج کے بعد ہی کانگریس حکومت دوبارہ سروے کرانے کیلئے تیار ہوئی ہے۔ چیف منسٹر کا ریاست کے نظم و نسق پر کوئی کنٹرول نہیں رہا جس کے سبب ہر کام کو دوبارہ کروانا پڑرہا ہے جس کی تازہ مثال ذات پات کا سروے ہے اور ساتھ ہی راشن کارڈس کیلئے درخواستوں کی وصولی ہے۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ بالخصوص طلبہ برادری حکومت کی پالیسیوں سے سخت ناراض ہے۔ اسکولس اور ہاسٹلس میں طلبہ کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہ کرتے ہوئے حکومت طلبہ پر ظلم کررہی ہے۔ اوورسیز اسکالرشپس کی اجرائی میں بھی مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سخت الجھن کا شکار ہیں۔ حکومت تعلیم اور طلبہ کی بہتری کیلئے فوری توجہ دے۔2