نئی دہلی:کانگریس نے آج کہا کہ حکومت کی جانب سے بینکوں کی نجکاری سے عوامی شعبہ کے بینکوں کی تعداد 27 سے کم ہوکر محض 12 رہ گئی ہے اور ریزرو بینک نے بھی اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔کانگریس کی ترجمان سپریہ سرینیٹ نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریزرو بینک نے اگست کے بلیٹن میں بینکوں کی نجکاری پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریزرو بینک نے حکومت کے دباؤ میں اس ریسرچ رپورٹ سے یہ کہتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کی کہ اس نے بینکوں کی نجکاری پر رپورٹ تیار نہیں کی، جب کہ یہ رپورٹ خود ریزرو بینک کے محققین نے تیار کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی تشویشناک ہے کہ ریزرو بینک کو حکومت کے دباؤ میں یو ٹرن لینا پڑرہا ہے ۔ ان کاکہناتھا کہ جب نوٹ بندی ہوئی تب بھی حکومت نے ریزرو بینک کامشورہ نہیں مانا اوراس کا خمیازہ ملک کو بگھتناپڑا اور آج پھر اسی طرح کی صورت حال پیداہوگئی ہے اور ریزرو بینک پرخاموش رہنے کا دباؤ ڈال کر بینکوں کی نجکاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بینکوں کی نجکاری کے تعلق سے اپنے ارادے کا وائٹ پیپر لائے اور اسے ریزرو بینک جیسے اداروں پر دباؤ ڈالنا بند کرناچاہیے ۔ ان کا کہناتھا کہ اگر دباؤ نہیں ہوتا تو آر بی آئی کو اپنی رپورٹ سے پیچھے نہیں ہٹنا پڑتا۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس کو نجکاری کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرناچاہیے۔
اوراس پر ایک وائٹ پیپر لاناچاہیے ۔