جمہوریت کے تحفظ کیلئے عدلیہ مداخلت کرے، کانگریس پارٹی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ مرکز اور ریاست کے درمیان تنازعہ اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں سے ریاست میں بدامنی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ اگر تحقیقاتی ایجنسیاں برسراقتدار پارٹیوں کی آلہ کار بنی رہیں تو ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر جی نرنجن نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور ریاست میں برسراقتدار پارٹیاں اپنے تحت موجود تحقیقاتی اداروں کا استعمال کرتے ہوئے عوام میں اُلجھن پیدا کررہی ہیں۔ عوام نے انہیں اپنے بھلائی کے اقدامات کرنے کیلئے منتخب کیا ہے نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائی کیلئے۔ نریندر مودی کے دورہ حیدرآباد کے موقع پر ’’ اب دیکھ لیں گے ‘‘ کا لفظ ادا کیا گیا تھا جبکہ کے سی آر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ مودی جی اب نہیں چلے گا اور نہیں چلنے دیں گے‘‘ اس طرح دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کیا۔ نرنجن نے کہا کہ عاملہ اور مقننہ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اور وہ غیر جانبداری کے ساتھ خدمات انجام دینے کے موقف میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف عوام میں الجھن پائی جاتی ہے بلکہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں رکاوٹ کا باعث بن گیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں عدلیہ کو مداخلت کرتے ہوئے جمہوریت کا تحفظ کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنر کے تقرر کے بارے میں بعض اعتراضات دکھائے ہیں۔ سپریم کورٹ چاہتا ہے کہ ٹی این سیشن جیسے افراد الیکشن کمیشن پر فائز کئے جائیں کیونکہ الیکشن میں شفافیت پیدا ہوسکے اور کسی بھی بدعنوان شخص کو انتخابی دھاندلیوں کے ذریعہ منتخب ہونے سے روکا جاسکے۔ جی نرنجن نے الیکشن کمشنر اور چیف الیکٹورل آفیسرس کے تقرر میں حکومتوں کی مداخلت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ر