ڈاکٹر کیشو راؤ نے نوٹس پیش کی، اپوزیشن کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی کے استعمال کا الزام
حیدرآباد۔13۔مارچ (سیاست نیوز) پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ کے آغاز پر بی آر ایس نے مرکزی حکومت کی جانب سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال پر مباحث کا مطالبہ کرتے ہوئے صدرنشین راجیہ سبھا کو نوٹس دی ہے۔ راجیہ سبھا میں بی آر ایس کے فلور لیڈر ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے قاعدہ 267 کے تحت صدرنشین راجیہ سبھا اور نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکر کو مکتوب حوالے کیا۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے قواعد 267 کے تحت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے بے جا استعمال پر ایوان میں مباحث کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈہ میں موجود امور کو ملتوی کرتے ہوئے نوٹس پر بحث کی اجازت دی جائے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے چیف منسٹر کے سی آر کی دختر کویتا کو شراب اسکام کے معاملہ میں جانچ کیلئے دہلی طلب کیا تھا ۔ کویتا سے 8 گھنٹوں تک ہفتہ کے دن پوچھ تاچھ کی گئی اور انہیں دوبارہ 16 مارچ کو حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ۔ بی آر ایس کا الزام ہے کہ اپوزیشن کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ سی پی آئی کے رکن بنوئے وشوم نے تریپورہ میں مابعد الیکشن تشدد کے مسئلہ پر مباحث کی مانگ کی۔ سی پی آئی رکن نے تریپورہ میں تشدد کے واقعات پر فوری مباحث کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے رکن مانکیم ٹیگور نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ پر مباحث کی مانگ کرتے ہوئے تحریک التواء پیش کی ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بی آر ایس اور عام آدمی پارٹی ارکان نے اڈانی اداروں کی مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی مانگ کی ہے۔ر