ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ‘ آواز اُٹھانے پر دھمکیاں‘ مرکز کی خطرناک پالیسی

   


بی جے پی کی گھناؤنی سازش کو تلنگانہ میں ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیں گے‘ ملک کو بچانے آگے آئیں‘ نوجوانوں سے چیف منسٹر کی اپیل
ll مرکز میں عوامی خدمت والی حکومت کیلئے راستہ ہموار کروں گا
ll جامع کلکٹریٹ عمارت کے افتتاح پر اظہار مسرت
ll محبوب نگر میں عوامی جلسہ سے کے سی آر کا خطاب

محبوب نگر۔ 4؍دسمبر (ایم اے مجیب کی رپورٹ)۔ عوامی ترقی اور ویلفیر کے کام خود بھی نہیں کریں گے اور کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کریں گے۔ یہی مرکز کی خطرناک پالیسی ہے اور جب اس پالیسی کے خلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے تو مرکز ان مخالفین کو دھمکیاں دیتا ہے اور دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ای ڈی اور دیگر اداروں کو استعمال کررہا ہے۔ یہ وضاحتیں ریاستی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج مستقر محبوب نگر کے ایم وی ایس کالج گراؤنڈ پر زبردست عوامی جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے کیں۔ انھوں نے مرکزی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا ایک وزیراعظم کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ بنگال جاکر یہ کہے کہ ٹی ایم سی کے 40 ارکان اسمبلی میرے ربط میں ہیں۔ انھوں نے نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اسی میدان میں جلسہ عام میں اعلان کئے تھے کہ پالمور لِفٹ اریگیشن پراجکٹ کو ہم مکمل کریں گے، لیکن یہ جھوٹا اعلان ہی ثابت ہوا۔ گزشتہ 7 برس سے ہم مرکز سے لڑائی لڑرہے ہیں کہ دریائے کرشنا میں ہمارا حصہ کیا ہے۔ پسماندہ ضلع محبوب نگر کے پالمور رنگاریڈی لِفٹ اریگیشن پراجکٹ کو مکمل کرکے 25 تا 30 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ ہم نے بنایا ہے، لیکن مرکز کی سرد مہری اور رکاوٹوں کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکا۔ انھوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ میں خاموش رہنے والا نہیں ہوں۔ 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، باقی 10 فیصد بھی بہت جلد تکمیل کرلیا جائے گا۔ انھوں نے پھر مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز کے تصادم والے رویہ سے ریاستیں شدید نقصان سے دوچار ہورہی ہیں۔ انھوں نے نوجوانوں، دانشوروں اور دیگر مکاتب فکر کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ سامنے آئیں فکر کے ساتھ اور ملک کو نقصان سے بچائیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 8 برس سے مرکز نے آخر کیا ٹھوس عوامی خدمت کی ہے؟ انھوں نے ضلع کی ترقی کا تذکرہ رکتے ہوئے کہا کہ ضلع میں 5 میڈیکل کالجس کی منظوری عمل میں آئی جن میں نارائن پیٹ، گدوال کے کالجس کا جلد ہی آغاز ہوگا۔ انھوں نے تلنگانہ سے قبل ریاست کی آمدنی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آمدنی 62 ہزار کروڑ روپئے تھی اور آج 4.5 لاکھ کروڑ روپئے ہوچکی ہے۔ یہ سب کچھ منصوبہ بندی اور سخت محنت سے ممکن ہوسکا۔ انھوں نے مودی کے گجرات اور ملک کے صدر مقام دہلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں برقی اور پینے کے پانی کا بحران ہے۔ جلسہ کی صدارت ریاستی وزیر آبکاری وی سرینواس گوڑ نے کی۔ انھوں نے متحدہ ضلع کے اسمبلی حلقوں کی ترقی کے لئے فنڈس کی چیف منسٹر سے اپیل کی۔ چیف منسٹر نے 14 اسمبلی حلقوں کے لئے فی حلقہ 15 کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ابھی تو ہم ترقی کے سفر میں ہیں، منزل دور ہے اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کے 10 اضلاع کو 33 اضلاع میں تقسیم کیا گیا۔ 13 اضلاع میں جامع کلکٹریٹس کی تعمیر مکمل ہوگئی۔ آج یہاں 13 ویں کلکٹریٹ کا افتتاح کرتے ہوئے میں مسرت محسوس کررہا ہوں۔ انھوں نے عہدیداروں، ملازمین اور نمائندوں کی ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کی گھناؤنی اور غیر جمہوری سازشوں کو تلنگانہ میں کبھی کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا۔ حال ہی میں میرے ایم ایل ایز کو خریدنے کی سازش کرنے والے آج جیل میں ہیں۔ انھوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ آپ سب کا تعاون اور اعتماد حاصل رہا تو مرکز میں بہتر عوامی خدمت والی حکومت کے لئے راستہ ہموار کروں گا۔ چیف منسٹر نے آج دوپہر ٹی آر ایس پارٹی آفس کا بھی افتتاح کیا۔ انھوں نے پھر کہا کہ میں اُس وقت تک چین سے نہیں رہوں گا، جب تک تلنگانہ کے عوام بالخصوص کسان قرض کے بغیر زندگی نہیں گزاریں گے۔ تمام مذاہب و طبقات کے عوام کے چہروں پر حقیقی مسکراہٹ دیکھنا ہی میرا مقصد ہے۔ چیف منسٹر ٹھیک ایک بجے دن بذریعہ بس پارٹی آفس پہنچے اور افتتاح انجام دیا۔ 2 بجے دوپہر جدید کلکٹریٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے ضلع کلکٹر وینکٹ راؤ کو ان کے چیمبر میں کرسی پر بٹھایا۔ اس موقع پر صدر ضلع ٹی آر ایس لکشما ریڈی، ریاستی وزیر زراعت نرنجن ریڈی، ریاستی وزیر آر اینڈ بی ویمولا پرشانت ریڈی، ریاستی وزیر لیبر ملاریڈی، ارکان پارلیمان سرینواس ریڈی، راملو، ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن چیرمین امتیاز اسحٰق، ارکان اسمبلی آلا وینکٹیشور ریڈی، چٹم رام موہن ریڈی، راجندر ریڈی، کرشنا موہن ریڈی، جئے پال یادو، ایم ایل سیز کے نارائن ریڈی، وانی دیوی، ضلع پریشد چیرپرسن سورنا سدھاکر ریڈی، چیف سکریٹری سومیش کمار، سی ایم سکریٹری سمیتا سبھروال و دیگر موجود تھے۔ چیف منسٹر شام 5.45 بجے بذریعہ ہیلی کاپٹر حیدرآباد روانہ ہوگئے۔