انقرہ : ایک شامی پناہ گزین نے اتوار کو خود کو ترک پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے حوالے کرنے سے قبل اس نے ترک ریاست قونیا میں اپنی دو بیٹیوں کو قتل کر دیا تھا جہاں وہ اپنے خاندان، بیوی اور اپنے 7 بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ وہ جنگ کے نتیجہ میں شام سے فرار ہوا مگر اسے ترکیہ میں بھی چین نہیں نصیب نہیں ہوا۔ 54 سالہ شامی یوسف الاحمد قونیا میں ترک پولیس کے پاس گیا۔اس نے کل سہ پہر کو غصے میں آ کراپنی دو بیٹیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ اس نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بچیوں کے ’غیرت‘ کے جرم ہوش کھو بیھٹا، جب اسے ہوش آیا تو وہ اپنی دو بچیوں کو تیز دھارآلے سے ذبح کرچکا تھا۔ترک پولیس کو الاحمد کی رہائش گاہ سے قتل ہونے والی دونوں بہنوں کی نعشیں ملیں، بعد میں انہیں قونیہ میں ایک فرانزک ڈاکٹر کے معائنہ کے بعد دفن کر دیا۔