ووٹنگ فیصد میں اضافہ ضروری، گھرگھر ہندو ایجنڈہ کی تشہیر باعث تشویش،سیکولر طاقتیں چوکس ہوجائیں
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں کے لئے 18 اپریل کو انتخابی اعلامیہ جاری کیا جائے گا جو سیاسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے لیکن بی جے پی نے تمام 17 حلقوں میں اپنی انتخابی مہم تیز کردی ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ برسر اقتدار کانگریس اور مین اپوزیشن بی آر ایس کے مقابلہ بی جے پی کی مہم کو سبقت حاصل ہے۔ بی جے پی نے جنوبی ہند میں تلنگانہ ریاست کو نشانہ پر رکھا ہے اور وہ 10 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کیلئے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے۔ بی جے پی کے خفیہ سروے کے مطابق تلنگانہ میں پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل نریندر مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈہ سے متاثر ہے ۔ پارٹی کو یقین ہے کہ اگر 10 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوتی ہے تو آئندہ اسمبلی چناؤ میں وہ حکومت سازی میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ تلنگانہ جیسی سیکولر ریاست میں اچانک بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ باعث حیرت ہے ۔ دراصل ریاست کی سیکولر پارٹیوں کے نرم رویہ نے بی جے پی کو ہندوتوا ایجنڈہ عوام تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بی آر ایس 10 برسوں تک اقتدار میں رہی لیکن اس نے فرقہ پرست طاقتوں کی سرکوبی کیلئے سخت قدم نہیں اٹھائے۔ ریاست کی ترقی کیلئے مرکز کے تعاون کے نام پر بی جے پی کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا گیا جس کا سنگھ پر یوار کی تنظیموں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہری اور دیہی علاقوں کے ماحول کو زہر آلود بنانے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کو برسر اقتدار آئے صرف چار ماہ ہوئے لیکن وہ سنگھ پریوار کے خفیہ ایجنڈہ کو روکنے میں اس لئے بھی کامیاب نہیں ہے کیونکہ نفرت کا زہر شہروں اور گاؤں تک پھیل چکا ہے ۔ تلنگانہ سے بی جے پی کو شکست کے ذریعہ نفرت کے ایجنڈہ کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ بی جے پی اور بی آر ایس نے تمام 17 لوک سبھا حلقوں کے لئے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا جبکہ کانگریس نے 14 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی آر ایس اور کانگریس کے امیدوار ابھی تک عوام کے درمیان نہیں پہنچے جبکہ بی جے پی کیڈر گزشتہ دو ماہ سے گھر گھر پہنچ کر مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہا ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کو امیدواروں کے اعلان کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انہیں ووٹ امیدوار کی صورت سے نہیں بلکہ مودی کے نام پر ملنے کا یقین ہے۔ رام مندر کی تعمیر کو مودی کے کارنامہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک میں ہندو مذہب خطرہ میں ہے حالانکہ مسلم اقلیت خود عدم تحفظ کا شکار ہے۔ جہاں تک تلنگانہ کی انتخابی سیاست کا تعلق ہے۔ انتخابی سرگرمیوں میں بی جے پی کی سبقت تشویش کا باعث ہے۔ کانگریس اپنی چار ماہ کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ رہی ہے لیکن بی جے پی کی مہم کا انداز مختلف ہے۔ ایسے لوک سبھا حلقہ جات جہاں بی جے پی کو کامیابی کا یقین نہیں لیکن وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں آر ایس ایس اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں کو ہندو رائے دہندوں سے ملاقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ موجودہ حالات میں جلسے ، جلوسوں اور ریالیوں سے زیادہ سوشل میڈیا اور گھر گھر مہم اثر انداز ہوگی۔ بی جے پی کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ مسلم اقلیت اسے ووٹ نہیں دیں گے۔ بی جے پی کے ایک سرکردہ قائد نے کہا کہ تلنگانہ میں بیشتر حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلم رائے دہی کا فیصد انتہائی کم ہوتا ہے اور اقلیتیں نتائج پر اثر انداز ہونے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی والے حلقہ جات عادل آباد ، کریم نگر ، نظام آباد اور سکندرآباد میں گزشتہ چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی نے مسلم ووٹنگ کو بے اثر کردیا ہے۔ حالانکہ مذکورہ حلقہ جات میں مسلمان فیصلہ کن موقف میں ہیں۔ سیکولر ووٹ کی تقسیم اور مسلم رائے دہی کے تناسب میں کمی کی سازش میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کو کامیاب ہونے سے روکنا ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان ہوش کے ناخن نہیں لیں گے اور متحدہ رائے دہی کے علاوہ ووٹنگ کے فیصد میں اضافہ نہیں ہوگا تو پھر بی جے پی کو 10 نشستوں پر کامیابی سے روکنا مشکل ہوجائے گا۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں نظام آباد اربن ، کاما ریڈی اور نرمل اسمبلی حلقہ جات میں کامیابی حاصل کرنے والے بی جے پی قائدین کا دعویٰ ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ بھی حاصل ہوئے تھے۔ بی جے پی کے دعویٰ میں کس قدر سچائی ہے ، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں الجھن پیدا کرنے کیلئے اس طرح کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ سیکولر پارٹیوں بالخصوص کانگریس اور بی آر ایس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں سنگھ پریوار کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ جہاں تک رائے دہی کا سوال ہے خود مسلمانوںکو ووٹنگ فیصد میں اضافہ پر توجہ دینی چاہئے ۔ عادل آباد ، کریم نگر ، میدک ، ظہیر آباد ، ملکاجگری ، سکندرآباد ، چیوڑلہ اور محبوب نگر میں اگر مسلمانوں کی رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ہوتا ہے تو بی جے پی کی شکست یقینی ہوگی۔ ووٹنگ فیصد میں اضافہ کے علاوہ مسلم اور سیکولر ووٹ تقسیم ہونے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تلنگانہ میں 2011 مردم شماری کے حساب سے مسلمانوں کی آبادی 12.7 فیصد ہے جبکہ عیسائی 1.3 فیصد ہیں۔ اگر تازہ ترین مردم شماری کی جائے تو تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 15 فیصد تک پہنچ جائے گی اور یہ فیصد کوئی معمولی نہیں ہے۔ شرط صرف یہی ہے کہ ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں اور کامیابی حاصل کرنے کی اہلیت رکھنے والے سیکولر امیدوار کے حق میں رائے دہی ہو۔ 1