تلنگانہ نے 6 ماہ میں 10,100 کروڑ سود ادا کیا

   

ماہانہ 1681 کروڑ کا بوجھ ، ایک سال میں 200 کروڑ کا اضافہ
حیدرآباد /4 نومبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت پر دن بہ دن سود کا قرض برھتا جارہا ہے ۔ ماضی میں محصلہ قرض کے ساتھ نئے قرض سے زیادہ سود ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گذشتہ سال اسی ماہ اوسطاً 1466کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا ۔ یہ سود اب بڑھ کر 1683 کروڑ روپئے ہوگیا ہے ۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ مستقبل میں شرح سود کی ادائیگی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ ریزرو بینک کی نیلامی میں تلنگانہ حکومت بھاری قرض حاصل کر رہی ہے جس سے سود کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ریاست کی آمدنی گھٹ رہی ہے اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مرکز سے جو فنڈز اور بقایاجات ملنا ہے وہ بھی نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے قرض پر انحصار کرنا پر رہا ہے اور ریاست پر سود کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مرکز نے واضح کردیا کہ بجٹ قرض کے تحت تلنگانہ حکومت نے 3.12.191 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ۔ کارپوریشن کے تحت 1,35,282 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ اس قرض پر بھاری سود ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ستمبر تک جملہ 10,100.47 کروڑ کا سود ادا کیا گیا ۔ جو ماہانہ 1,683.41 کروڑ ہے ۔ گذشتہ سال ستمبر تک 8,801.55 کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا تھا ۔ تب 6 ماہ کے دوران اوسطاً ماہانہ 1,466.92 کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا ۔ سود کی ادائیگی میں ایک سال کے دوران 200 کروڑ روپئے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال 12 ماہ کا اوسطاً 1596 کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا ۔ اب یہ 6م اہ کا اوسطً سود 1633 کروڑ روپئے ہوگیا ہے ۔ اس طرح چھ ماہ میں سود پر 100 کروڑ روپئے کا اضافہ ہویگا ہے ۔ جب بھی ریاستی حکومت قرض حاصل کرتی ہے ۔ آر بی آئی فوری سود کی رقم کاٹ لیتی ہے ۔