مزاجِ گردشِ دوراں مرے جنوں سے نہ کھیل
میرا مذاق اڑانا کوئی مذاق نہیں
تلنگانہ کی سیاست میں موسم گرما کی طرح اچانک سے گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے ۔ گذشتہ دن جگتیال ضلع میں بی آر ایس اور برسر اقتدار کانگریس پارٹی کی جانب سے الگ الگ جلسے منعقد کئے گئے ۔ دونوں ہی جلسے کامیاب رہے ۔ دونوں ہی جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ بی آر ایس کے جلسہ میں کانگریس سے مستعفی سابق وزیر ٹی جیون ریڈی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی اور بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راو نے انہیں فوری پارٹی جنرل سکریٹری کے عہدہ پر نامزد کردیا ۔ اسی طرح کانگریس کے جلسہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آئندہ انتخابات میں انہیں قائد اپوزیشن کے عہدہ سے بھی محروم کردینے کا چیلنج کیا اور انہوں نے کسانوں میں امدادی رقم کے چیکس کی تقسیم بھی عمل میں لائی ۔ چیف منسٹر نے ریاستی وزراء کے ساتھ کالیشورم پراجیکٹ کا بھی معائنہ کیا ۔ تلنگانہ کی سیاست میں یہ ساری گرما گرمی اور گہما گہمی کی کیفیت اس وقت سے شروع ہوئی سابق ریاستی وزیر اور سینئر لیڈر ٹی جیون ریڈی نے کانگریس پارٹی سے استعفی پیش کردیا تھا ۔ وہ گذشتہ کچھ وقت سے کانگریس پارٹی سے ناراض تھے اور پارٹی میں نظر انداز کئے جانے کی شکایت کر رہے تھے ۔ جیون ریڈی سے ان کی قیامگاہ پہونچ کر بی آرا یس کے لیڈر کے ٹی راما راو نے ملاقات کی تھی ۔ پھر جیون ریڈی فارم ہاوز پہونچ گئے اور وہاں انہوں نے کے سی آر سے ملاقات کی تھی جس کے بعد بی آر ایس نے جگتیال میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ جیون ریڈی کو اپنی صفوں میںشامل کیا جاسکے ۔ جیون ریڈی ایک سینئر اور تجربہ کار لیڈر ہیں اور بی آر ایس کا احساس ہے کہ ان کی شمولیت سے پارٹی کو شمالی تلنگانہ کے اضلاع میں استحکام مل سکتا ہے ۔ کے سی آر نے انہیں فوری پارٹی جنرل سکریٹری نامزد کرتے ہوئے عملی طور پر بھی اس کا اعتراف کیا ہے اور انہیں مختلف اضلاع میں پارٹی کو مستحکم کرنے پر کام کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ساری سیاسی گہما گہمی کی اصل وجہ سینئر لیڈر ٹی جیون ریڈی ہی ہیں۔
اس سارے معاملے میں بی آر ایس اور کانگریس کے مابین لفظی جنگ بھی ایک طرح سے شروع ہوگئی ہے ۔ دونوں ہی جانب سے انتہائی شددی الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے جو تلنگانہ کی سیاست کا حصہ کبھی نہیں رہا تھا ۔ کانگریس سے مستعفی ہونے سے قبل تک جیون ریڈی کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے اور انہیں منانے کی کوشش کرنے والے کانگریس قائدین اب جیون ریڈی کے خلاف شخصی تنقیدیں کر رہے ہیں ۔ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ ایک بھی الیکشن جیت نہیں پائے ہیں۔ دوسری جانب بی آر ایس کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں بی آر ایس کو دفن کردیا گیا ہے اور آئندہ انتخابات میں بی آر ایس کی قبر پر کانگریس کا پرچم لہرایا جائے گا ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے کے چندر شیکھر راو نے کہا کہ اگر وہ ( ریونت ریڈی ) ایک ہزار مرتبہ بھی جنم لیں تب بھی وہ ( کے سی آر ) مرنے والے نہیں ہیں۔ تلنگانہ کی سیاست میں اس طرح کے جملے کبھی نہیں کہے گئے تھے ۔ یقینی طور پر سیاسی مخالفین کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کو شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے تاہم اس میں بھی ایک حد ضرور رہی تھی اور شخصی طور پر کسی کے بھی خلاف وہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا گیا تھا جو اب کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی گہما گہمی اپنی جگہ ٹھیک ہی لیکن اس میں اخلاقیات اور اقدار کی پاسداری ضرور کی جانی چاہئے اور اختلافات کو شخصی عناد یا دشمنی کی شکل دینے سے سبھی فریقین کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
حالانکہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی ڈھائی برس کا وقت باقی ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ابھی سے دونوں ہی جانب سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ حکومت اپنے کارنامے پیش کرتے ہوئے عوام کی تائید کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو اپوزیشن بی آر ایس کی جانب سے حکومت کی ناکامیوں اور عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری نہ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے عوامی تائید دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ تلنگانہ کی سیاست میں اس گہما گہمی پر ریاست کے عوام نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عوام ابھی سے کوئی فیصلہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں تاہم وہ صورتحال کا جائزہ ضرور لے رہے ہیں۔