تلنگانہ ہائی کورٹ نے دو امیدواروں کو مقابلہ کی اجازت دی

   

ریٹرننگ آفیسر کے فیصلہ پر حکم التواء، وضاحت کا موقع دیئے بغیر پرچہ نامزدگی مسترد
حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس اے ابھیشیک ریڈی نے اتوار کے باوجود خصوصی سماعت کرتے ہوئے بلدی انتخابات کے دو امیدواروں کے حق میں فیصلہ سنایا اور ریٹرننگ آفیسرس کی جانب سے امیدواروں کے پرچہ جات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کیا ۔ لمحہ آخر میں کی گئی اس کوشش کے بعد امیدواروں کو بڑی راحت ملی ہے ۔ کانگریس امیدوار کے سرینواس گوڑ اور بی جے پی امیدوار رینو سونی نے علحدہ طور پر درحواستیں داخل کرتے ہوئے اپنے ڈیویژن کے ریٹرننگ آفیسرس کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ کے سرینواس گوڑ نے میڑچل کے تحت آنے والے گاجولا رامارم اور رینو سونی نے گھانسی بازار ڈیویژن سے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے تھے۔ پرچہ جات کی جانچ کے موقع پر ریٹرننگ آفیسرس نے دو سے زائد بچوں کی شکایت اور بی سی سرٹیفکٹ درست نہ ہونے پر دونوں کے پرچہ جات کو مسترد کردیا تھا ۔ دونوں امیدوار عدالت سے رجوع اور جسٹس ابھیشیک ریڈی کے پاس ہاؤز موشن داخل کیا جس پر یہ فیصلہ سنایا گیا۔ سرینواس گوڑ کے معاملہ میں ٹی آر ایس امیدوار کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ انہیں دو سے زائد بچے ہیں۔ اسی طرح گھانسی بازار کے ریٹرننگ آفیسر نے روپا سونی کو بی سی بی کمیونٹی سے تعلق تکھنے کا سرٹیفکٹ قبول نہیں کیا اور پرچہ نامزدگی کو مسترد کردیا تھا۔ درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ ریٹرننگ آفیسر نے ان کے موقف کی سماعت کے بغیر ہی یکطرفہ فیصلہ کیا ۔ بی جے پی امیدوار کا کہنا ہے کہ جب تک عہدیدار مجاز بی سی سرٹیفکٹ کالعدم نہیں کرتے ، اس وقت تک ان کا پرچہ نامزدگی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے الیکشن آفیسرس کو ہدایت دی کہ پرچہ جات نامزدگی قبول کرتے ہوئے امیدواروں کی فہرست میں ناموں کو شامل کریں۔ جسٹس ابھیشیک ریڈی نے کہا کہ بغیر تحقیقات اور امیدوار سے وضاحت طلب کئے بغیر یکطرفہ فیصلہ نہیں ہے ۔ عدالت نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے دونوں امیدواروں کو انتحابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔