جاریہ ہفتہ اسرائیل پر ایران کے بڑے حملوں کے اندیشے

   

ترجمان امریکی قومی سلامتی کونسل کی پریس کانفرنس، بائیڈن کی برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے قائدین سے بات چیت، ہم سے تحمل کی امید نہ رکھیں:ایران
واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے پیر کو کہا کہ ایران رواں ہفتے کے اوائل میں ہی اسرائیل پر اہم حملے کر سکتا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاکہ ہمیں اس کیلئے تیار رہنا ہوگا، جو کہ حملوں کا ایک اہم مجموعہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ان اسرائیلی جائزوں کا اشتراک کرتا ہے کہ ایسے اقدام اسی ہفتے ہو سکتے ہیں۔ جان کربی نے یہ بات گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن کے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہی۔ صدر بائیڈن نے ان رہنماؤں سے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے طور طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔کربی نے کہا کہ صدر کی فون کال بڑی حد تک سب رہنماؤں کیلئے تھی کہ وہ اسرائیل کے دفاع کی توثیق کرنے میں پہلے سے کیے گئے اپنے عزم کا اعادہ کریں اور ایک مضبوط پیغام بھیجیں کہ ہم تشدد میں اضافہ اور نہ ہی ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کسی بھی قسم کے حملے دیکھنا چاہتے ہیں۔پیر کو صدر بائیڈن اور چار یورپی رہنماؤں کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہم نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوجی حملے کی اپنی دھمکیوں سے دستبردار ہو جائے اور اس طرح کے حملے کی صورت میں علاقائی سلامتی کیلئے سنگین نتائج کے بارے میں بھی چیت کی۔ واضح رہیکہ گزشتہ ماہ تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد اسرائیل ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایران نے ہنیہ کی ہلاکت کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا اور جواباً اسے سزا دینے کی بات بھی کی۔اسرائیل نے براہ راست اس بات کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی تردید کی ہیکہ ہنیہ کے قتل کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد انہیں اور حماس کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو قتل کرنے کا عہد کیا تھا۔ادھر امریکہ اسرائیل کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی حملے کے پیش نظر خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ ایران کا بھی کہنا ہیکہ اب وہ تحمل سے کام نہیں لے گا۔ اتوار کو پینٹگان نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جنگی طیارے ایف 35 سے لیس طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ آنے والے دیگر بحری جہازوں کو خلیج فارس میں اپنی تعیناتی کو تیزتر کرنے کا حکم دیا ہے۔ گائیڈڈ میزائلوں سے لیس آبدوز یو ایس ایس جارجیا بھی خلیج فارس کیلئے روانہ کی گئی ہے، جو ابھی راستے میں ہے۔ پیر کے روز جرمن چانسلر اولاف شولز نے نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی تھی، جس میں انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔جرمن حکومت کے ایک بیان کے مطابق شولز نے ایران کے نئے صدر سے کہاکہ یہ علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے ایک اہم تعاون ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں تشدد کی لہر کو اب توڑنے کا وقت ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی چیز خطے کے ممالک اور لوگوں کیلئے ناقابلِ یقین خطرہ ہو گی۔