برلن : اگر نئے قانون کا مسودہ منظور ہو گیا تو کمپنیوں کو اگلے سال کے لیے اعلان کردہ قیمتوں میں اضافہ واپس لینا ہوگا۔ قانون سازی کا مقصد گھریلوں صارفین اور چھوٹی صنعتوں کا تحفظ کرنا ہے۔ جرمن حکومت توانائی کمپنیوں کو 2023 میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے روکنا چاہتی ہے۔ برلن حکومت نے پہلے ہی توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اگلے سال کے لیے توانائی کی قیمتوں پر ایک حد مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان قمیتوں میں اضافے سے گھریلو صارفین کے بجٹ اور بہت سے کاروباروں کو خطرہ ہے۔ جرمن اخباربلڈ نے ہفتہ کے روز اس بارے میں مسودہ قانون کے حوالے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ بلڈ کی رپورٹ کے مطابق برلن کی جانب سے گزشتہ ماہ اعلان کیا گیا ایک مسودہ قانون یوٹیلٹی کمپنیوں کو قیمت میں کسی بھی اضافے کا جواز پیش کرنیکا پابند کرتا ہے، مثال کے طور پر اگر مالیاتی منڈیوں میں انتہائی اتار چڑھاؤ ہو۔ بصورت دیگر ان پر 2023 ء میں قیمتوں میں اضافہ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اگر اس اقدام کو منظور کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ توانائی کی فرموں کی جانب سے اگلے سال کے لیے پہلے ہی اعلان کردہ قیمتوں میں اضافے کو واپس لینا ہوگا۔ حکومت توانائی کی فرموں کو قیمت کی حد کی ادائیگی کے لیے 87 بلین ڈالر کی سبسڈی اسکیم کا غلط استعمال کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔