واشنگٹن، 23 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں کوئی فوری دباؤ یا وقت کی پابندی نہیں ہے ، اور 12 اپریل کو مذاکرات رکنے کے بعد ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے نئی تاریخ طے کرنے میں بھی کوئی جلدی نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے اور اس حوالے سے جو 3 تا 5 دن مدت کی بات کی جا رہی ہے وہ غلط ہے ۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی تبصرہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کچھ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا قبضے میں لیا گیا۔ ٹرمپ نے کہاکہ وہ امریکی جہاز نہیں تھے ۔ وہ اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جنگ کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ اس کیلئے کوئی مقررہ وقت نہیں اور نہ ہی کوئی جلد بازی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں یہ سب وسط مدتی انتخابات کی وجہ سے ختم کرنا چاہتا ہوں، یہ درست نہیں ہے ۔ ہم امریکی عوام کیلئے اچھا معاہدہ چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے ایران کی حکومت کے بارے میں کہا کہ ان کیلئے ناکہ بندی بمباری سے زیادہ خوف ناک ہے ۔ انھیں برسوں سے بمباری کا سامنا رہا ہے ، لیکن ناکہ بندی وہ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ جب تیل کے کنویں ایک بار بند ہو جائیں تو بعض اوقات وہ دوبارہ کبھی نہیں کھلتے ۔ٹرمپ نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ایک ذہین آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ’جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو وہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہوں گے ۔