جنگلاتی زندگی کا تحفظ اور غیر قانونی شکار حکومت کیلئے چیالنج

   

اترپردیش میں سب سے زیادہ غیر قانونی شکار کے واقعات، سزاؤں کے تعین سے زیادہ سخت نگرانی ضروری
حیدرآباد۔ 23 اگست (سیاست نیوز) جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی شکار پر پابندی کے باوجود کئی ریاستوں میں جنگلی جانوروں کے شکار کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے جنگلی جانوروں کے شکار ان کے گوشت کی غیر قانونی فروخت اور چمڑے اور دیگر اشیاء کی غیر قانونی تجارت کی صورت میں سخت سزاؤں کی گنجائش رکھی ہے۔ وقفہ وقفہ سے فارسٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے شکاریوں کی گرفتاری کی اطلاعات میڈیا کے لئے جاری کی جاتی ہیں لیکن اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہوتا کہ گرفتار کئے گئے افراد میں سزا پانے والوں کا فیصد کتنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر غیر قانونی شکاری ثبوت کی کمی کے باعث سزا سے بچ جاتے ہیں۔ 2025 میں اترپردیش میں غیر قانونی طور پر شکار کے 93 معاملات درج کئے گئے جبکہ راجستھان میں 37 اور مہاراشٹرا میں 34 مقدمات درج کئے گئے۔ مدھیہ پردیش، بہار، مغربی بنگال اور کرناٹک میں بھی جنگلاتی علاقوں میں شکاریوں کی سرگرمیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ جنگلاتی زندگی کا تحفظ حکومتوں کے لئے ایک چیالنج بن چکا ہے۔ محض سزاؤں کے تعین سے غیر قانونی شکار کو روکا نہیں جاسکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں ان کے اطراف چوکسی میں اضافہ کیا جائے اور جنگلات میں زندگی برسر کرنے والے قبائل کو اعتماد میں لے کر شکاریوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔ ایسی ریاستیں جہاں جنگلات کی کثرت ہے وہاں شکاریوں کی سرگرمیاں بھی زیادہ پائی گئی ہیں۔ 1؍F